حکمرانوں نے آمدہ بجٹ میں عوام پر مہنگائی کا پہاڑ توڑنے کیلئے زمین ہموار کرنا شروع کردی ہے، علامہ حسن ظفر نقوی
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ اگر ملک معاشی ترقی کر رہا ہے تو عوام مہنگائی تلے کیوں دبتی جا رہی ہے آئی ایم ایف کا تیار کردہ بجٹ عوام کسی حال میں قبول نہیں کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ جنرل سیکرٹری مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ سید حسن ظفر نقوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکمرانوں نے آنے والے بجٹ میں عوام پر مہنگائی کا پہاڑ توڑنے کے لئے پہلے سے زمین ہموار کرنا شروع کردی ہے، سارے وزیر مشیر میڈیا کے ذریعے پہلے ہی سے مہنگائی کا مژدہ سنا رہے ہیں، وہ نوکری پیشہ افراد جو اپنی تنخواہ سے بجلی کا بل بھی ادا کرنے کے قابل نہیں ان کی کمر توڑنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی تنخواہیں کئی سو فیصد بڑھانے والے عوام کے سامنے سخت حالات برداشت کرنے کا بھاشن دے رہے ہیں، اگر ملک معاشی ترقی کر رہا ہے تو عوام مہنگائی تلے کیوں دبتی جا رہی ہے آئی ایم ایف کا تیار کردہ بجٹ عوام کسی حال میں قبول نہیں کرے گی تمام سیاسی اور مزہبی جماعتوں کو مل کر مہنگائی کے اس طوفان کے خلاف آواز اٹھانا ہو گی جو آنے والے بجٹ کی صورت میں آنے والا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔