طویل انتظار ختم؛ ٹرمپ اور چینی صدر شی کے درمیان 90 منٹ تک ٹیلیدونک گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
صدر ٹرمپ اور صدر شی جنپنگ کے درمیان بالآخر ٹیلی فونک رابطہ ہوگیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تجارتی تعلقات کے خاتمے کی امید پیدا ہوگئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جنپنگ نے ٹیلی فونک گفتگو کو "مثبت" اور "حوصلہ افزا" قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کال کے بعد "سچ سوشل" پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ گفتگو "بہت اچھی" رہی اور دونوں ممالک کے اقتصادی ماہرین جلد مزید بات چیت کریں گے۔
امریکی صدر نے مزید بتایا کہ گفتگو کے دوران مکمل توجہ صرف تجارتی معاملات پر رہی۔ ایران یا یوکرین جیسے دیگر معاملات زیر بحث نہیں آئے۔
ٹرمپ نے گفتگو میں خاص طور پر نایاب معدنیات کے معاملے کو اجاگر کیا جن پر چین نے اپریل میں برآمدی پابندیاں عائد کی تھیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ اس موضوع پر پیش رفت ہوئی ہے اور اب ان مصنوعات کی پیچیدگی پر کوئی سوال باقی نہیں رہنا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ "صدر شی جنپنگ نے خاتون اوّل اور مجھے چین کے دورے کی دعوت دی جس پر میں نے بھی انھیں امریکا آنے کی دعوت دی ہے۔ دونوں عظیم اقوام کے صدور ہونے کے ناطے، ہم اس دورے کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر شی جنپنگ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو برابری کے جذبے کے ساتھ اور ایک دوسرے کے خدشات کا احترام کرتے ہوئے باہمی مفاد کے اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر شی جنپنگ نے مزید کہا کہ چین امریکا تعلقات کے دیوہیکل جہاز کی سمت درست کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہنر مندی سے اس کی رہنمائی کریں۔
چینی وزارت خارجہ کے بقول چینی صدر نے امریکا سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ چین کے خلاف اٹھائے گئے منفی اقدامات کو واپس لے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اور صدر شی جنپنگ کی یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی معیشت بے یقینی کا شکار ہے۔
اگر یہ بات چیت عملی اقدامات میں ڈھلتی ہے تو نہ صرف امریکا اور چین بلکہ عالمی منڈیوں کے لیے بھی امید کی کرن بن سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹرمپ اور
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار