امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے ملک کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں امریکا کا دورہ کرنے کی دعوت دی جبکہ چینی صدر شی جن پنگ نے بھی امریکی صدر کو دورہ چین کی دعوت دی۔

یہ بھی پڑھیں: ہالی ووڈ فلمیں بھی امریکا چین ٹیرف جنگ کی زد میں آگئیں

چینی صدر شی جن پنگ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کا خیرمقدم کریں گے، امریکا کو چین کے خلاف منفی اقدامات منسوخ کرنے چاہئیں۔ دونوں طرف سے سفارتی، معاشی، تجارتی، عسکری اور سیکیورٹی تبادلوں کو بڑھانا چاہیے۔

شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو غلط فہمیاں دور کر کے تعاون بڑھانا چاہیے، چین امریکا تعلقات میں خلل دور کرنا اہم ہے، تعلقات میں ہر قسم کی مداخلت اور تخریب کاری ختم کرنا ضروری ہے، دونوں ممالک کو اقتصادی، تجارتی میکینزم کا اچھا استعمال کرنا چاہیے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے تحفظات کا بھی احترام اور مساوی وریہ ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا چین سے کیوں الجھنا نہیں چاہتا؟

چینی صدر نے کہا کہ امریکا کو تائیوان کا مسئلہ احتیاط سے سنبھالنا چاہیے، چین اور امریکا کے لیے ڈائیلاگ اور تعاون درست انتخاب ہوگا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے چینی صدر سے بات کی ہے۔ ’ڈیڑھ گھنٹہ بات چیت دونوں ممالک کے لیے مثبت نتائج کی حامل رہی، نایاب معدینات کی پیچیدگی سے متعلق اب کوئی سوال نہیں ہونا چاہیے، دونوں ممالک کی ٹیمیں جلد ملاقات کریں گی۔‘

یہ بھی پڑھیں: چین امریکا تعلقات سنگین ہوگئے، چینی وزیر خارجہ نے خطرہ کی گھنٹی بجادی

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین، امریکا مذاکراتی ٹیموں کی ملاقات سے متعلق جلد میڈیا کو بتاؤں گا،چینی صدر نے مجھے مدعو کیا ہے اور میں نے انہیں مدعو کیا ہے، دونوں ملک آگے بڑھنے کے لیے کام کررہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا ٹیلیفون چین ڈونلڈ ٹرمپ شی جن پنگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ٹیلیفون چین ڈونلڈ ٹرمپ دونوں ممالک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چینی صدر کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل