امریکی صدر کی درخواست پر چینی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کا فون سن لیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے ملک کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔
بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں امریکا کا دورہ کرنے کی دعوت دی جبکہ چینی صدر شی جن پنگ نے بھی امریکی صدر کو دورہ چین کی دعوت دی۔
یہ بھی پڑھیں: ہالی ووڈ فلمیں بھی امریکا چین ٹیرف جنگ کی زد میں آگئیں
چینی صدر شی جن پنگ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کا خیرمقدم کریں گے، امریکا کو چین کے خلاف منفی اقدامات منسوخ کرنے چاہئیں۔ دونوں طرف سے سفارتی، معاشی، تجارتی، عسکری اور سیکیورٹی تبادلوں کو بڑھانا چاہیے۔
شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو غلط فہمیاں دور کر کے تعاون بڑھانا چاہیے، چین امریکا تعلقات میں خلل دور کرنا اہم ہے، تعلقات میں ہر قسم کی مداخلت اور تخریب کاری ختم کرنا ضروری ہے، دونوں ممالک کو اقتصادی، تجارتی میکینزم کا اچھا استعمال کرنا چاہیے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے تحفظات کا بھی احترام اور مساوی وریہ ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا چین سے کیوں الجھنا نہیں چاہتا؟
چینی صدر نے کہا کہ امریکا کو تائیوان کا مسئلہ احتیاط سے سنبھالنا چاہیے، چین اور امریکا کے لیے ڈائیلاگ اور تعاون درست انتخاب ہوگا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے چینی صدر سے بات کی ہے۔ ’ڈیڑھ گھنٹہ بات چیت دونوں ممالک کے لیے مثبت نتائج کی حامل رہی، نایاب معدینات کی پیچیدگی سے متعلق اب کوئی سوال نہیں ہونا چاہیے، دونوں ممالک کی ٹیمیں جلد ملاقات کریں گی۔‘
یہ بھی پڑھیں: چین امریکا تعلقات سنگین ہوگئے، چینی وزیر خارجہ نے خطرہ کی گھنٹی بجادی
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین، امریکا مذاکراتی ٹیموں کی ملاقات سے متعلق جلد میڈیا کو بتاؤں گا،چینی صدر نے مجھے مدعو کیا ہے اور میں نے انہیں مدعو کیا ہے، دونوں ملک آگے بڑھنے کے لیے کام کررہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا ٹیلیفون چین ڈونلڈ ٹرمپ شی جن پنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ٹیلیفون چین ڈونلڈ ٹرمپ دونوں ممالک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چینی صدر کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔