ڈیجیٹل اثاثوں اور بٹ کوائن پر پاک امریکا اشتراک؛ بلال بن ثاقب کی امریکا میں اہم ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے کرپٹو و بلاک چین اور پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر بلال بن ثاقب نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیجیٹل اثاثہ جات کی کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رابرٹ بو ہائنس سے اہم ملاقات کی۔
اس ملاقات کا مقصد پاکستان اور امریکا کے درمیان ڈیجیٹل اثاثوں، بٹ کوائن کے مستقبل، اور بلاک چین کے غیر مرکزی ڈھانچے پر مشترکہ تعاون کو فروغ دینا تھا۔
رابرٹ ہائنس اس وقت وائٹ ہاؤس میں صدر کی مشاورتی کونسل برائے ڈیجیٹل اثاثہ جات کے سربراہ ہیں اور وہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام، جدید کرپٹو ضوابط اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر امریکی پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہیں صدر ٹرمپ نے جنوری 2025 میں اس عہدے پر تعینات کیا تھا، جہاں وہ چیئرمین ڈیوڈ ساکس کے ساتھ مل کر امریکا کو کرپٹو اور بلاک چین حکمتِ عملی میں عالمی رہنما بنانے پر کام کر رہے ہیں۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کرتے ہوئے لاس ویگاس میں منعقدہ بٹ کوائن 2025 کانفرنس میں اپنی اسٹرٹیجک بٹ کوائن ریزرو (SBR) کے قیام کا اعلان کیا۔ یہ اقدام پاکستان کو ایشیا کے ان اولین ممالک کی صف میں لے آیا ہے جو اپنی ریاستی اثاثہ حکمتِ عملی میں بٹ کوائن کو شامل کر رہے ہیں۔
اس موقع پر بلال بن ثاقب نے کہا ’’میری خواہش ہے کہ پاکستان گلوبل ساؤتھ میں ڈیجیٹل اثاثوں کا قائد بنے۔ ہم نے نہ صرف اسٹرٹیجک بٹ کوائن ریزرو قائم کی بلکہ کرپٹو مائننگ اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ڈیٹا زونز کےلیے قومی سطح پر بنیادی ڈھانچے کو کھول کر ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کےلیے عملی بنیادیں رکھ دی ہیں۔‘‘
ملاقات میں دونوں ممالک نے ڈیجیٹل اثاثہ جات میں اشتراک، ضابطہ جاتی ہم آہنگی اور نئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کے فروغ میں تعاون کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے علاوہ ایسے اقدامات پر بھی غور کیا گیا جو نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور بلاک چین کے ذریعے معیشت میں شمولیت کو تیز کرسکیں۔
وزیر بلال بن ثاقب نے اس موقع پر وائٹ ہاؤس کے قانونی مشیران کے دفتر سے بھی ملاقات کی۔
یاد رہے کہ پاکستان کی نئی ڈیجیٹل حکمت عملی کے تحت 2,000 میگاواٹ بجلی کو بٹ کوائن مائننگ اور AI ڈیٹا زونز کے لیے مختص کیا جا رہا ہے تاکہ ملک کی اضافی توانائی کو معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور جدید ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں تبدیل کیا جاسکے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان بلال بن ثاقب بلاک چین بٹ کوائن
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :