پاکستان کا کرپٹو کی دنیا میں بڑا قدم، بھارت پیچھے رہ گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے کرپٹو و بلاک چین اور پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان کرپٹو میں آگے بڑھ رہا ہے جبکہ بھارت میں ٹریکشن کی کمی ہے۔
پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے کرپٹو و بلاک چین اور پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان نہ صرف کرپٹو کو آزما رہا ہے بلکہ مکمل عزم کے ساتھ اس میدان میں داخل ہو چکا ہے، حکومت کی مدد سے "اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو" قائم کر رہا ہے۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ یہاں چیزیں مزید دلچسپ ہو جاتی ہیں کہ امریکا کی جانب سے ایسا کرنے کے صرف تین ماہ بعد پاکستان نے اپنا ریزرو بنایا، بھارت ابھی تک صرف کرپٹو پر بات چیت کے وعدے ہی کر رہا ہے، بھارت کی جانب سے کئی برسوں سے "کرپٹو پالیسی پیپر" جاری کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ بھارت کا تازہ ترین وعدہ "جون 2025" کا ہے، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ قریب تو آ رہا ہے، لیکن حقیقت میں کبھی پہنچتا نہیں، یہ صورتحال کسی طنزیہ شاعری سے کم نہیں لگتی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، جسے کبھی ٹیکنالوجی کی دنیا میں پیچھے سمجھا جاتا تھا، اب جدت کے اس سفر میں قیادت کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے، پاکستان ایک "نیو بورن" کے عمل سے گزر رہا ہے، اور اب وہ عالمی سطح پر اپنی نئی پہچان بنانے کے لیے تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلال بن ثاقب نے کہا نے کہا کہ رہا ہے
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔