حافظ طاہر مجید کی میئر حیدرآباد سے ملاقات، ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی حیدرآباد حافظ طاہر مجید کی قیادت میں جماعت اسلامی کے ایک وفد نے میئر حیدرآباد کاشف علی شورو سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اس دوران شہر حیدرآباد میں ڈینگی، سیوریج و فراہمی آب کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی وفد میں نائب امیر جماعت اسلامی حیدرآباد عبدالقیوم شیخ، ڈپٹی جنرل سیکریٹری عبدالباسط خان، حافظ سفیان ناصر اور جماعت اسلامی یوسی 124کے چیئرمین و نائب صدر جماعت اسلامی یوتھ آفاق نصر بھی موجود تھے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ طاہر مجید نے میئر حیدرآباد کاشف علی شورو سے گفتگومیں حیدرآباد میں ڈینگی اور ملیریا کے تیزی سے پھیلنے پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے فوری طور پر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں روزانہ سینکڑوں ڈینگی کے کے مریض تشویشناک کیسز کے ساتھ رپورٹ ہو رہے ہیں جبکہ محلوں اور بستیوں میں بے شمار غیر رپورٹ شدہ کیسز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر ہیلتھ ٹیم کے ہمراہ تمام یوسیز میں مچھر مار اسپرے کرایا جائے تاکہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں، انہوں نے فتح چوک روڈ، امریکن کواٹر روڈ، پرانی سبزی منڈی روڈ سے محمدی چوک تک سڑکوں کی تعمیر اور سیوریج سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کے حوالے سے بھی بات کی ضلعی امیر حافظ طاہر مجید نے پرانی سبزی منڈی چوک کو غزہ چوک کے نام سے منسوب کرنے کی بھی درخواست کی۔ میئر حیدرآباد کاشف علی شورو نے پرانی سبزی منڈی چوک کو غزہ چوک قرار دینے کے لیے ایوان سے منظوری کرانے کے ساتھ پیش کردہ مسائل کو فوری حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
حیدرآباد: جماعت اسلامی حیدرآباد کے امیر حافظ طاہر مجید کی قیادت میں جماعت اسلامی وفد کے ہمراہ میئر حیدرآباد کاشف علی شورو سے ان کے دفتر میں ملاقات کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میئر حیدرا باد کاشف علی شورو حافظ طاہر مجید جماعت اسلامی
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔