پی ٹی آئی کا کارکن تو بانی پی ٹی آئی کے کہنے پر ہی نکلے گا
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
لاہور:
گروپ ایڈیٹر ایکسپریس ایاز خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا کارکن نکلے گا تو عمران خان کے کہنے پر نکلے گا، غالباً سوچ بھی یہی ہے جو پیٹرن انچیف خود کو قرار دیا ہے، عمران خان نے اور یہ کہا ہے اب میں کال دوں گا اور میں لیڈکروں گا اس احتجاج کو، مجھے لگتا ہے کہ کارکن کیلیے میسج عمران خان صاحب کاچونکہ میں کال دوں گا، میں لیڈ کروں گا لہذا آپ نکلیں۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹس میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جو آج بہت زیادہ ہائیپ بنی ہوئی تھی کہ پانچ جون کو رہا ہو جائیں گے اب ایک چیز بالکل واضح ہے چونکہ کیس سیاسی ہیں اس لیے ان کا فیصلہ تو عدالتوں سے نہیں ہونا ان کا فیصلہ تو کہیں اور ہونا ہے۔
تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ بات کرنے کو تو ٹرپ رہے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ میں صرف آپ سے بات کروں گا پھر کہتے ہیں کہ آپ جنگل کے بادشاہ ہیں، آپ بادشاہ کہلوا لیں اپنے آپ کو، کیا کیا لقب نہیں دیے انھوں نے پاکستان کی فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو اسی دوران انھیں مارنگ بلوچ بھی یاد آئی کہ جا کہ اس تحریک میں مارنگ بلوچ سے بھی مدد لینی ہے جس کو فوج نے کہا کہ فتنہ الہندوستان ہے۔
تجزیہ کار خالد قیوم نے کہا کہ اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا پی ٹی آئی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے قانونی راستہ اختیار کر ے گی یا پھر جو سیاسی سوچ ہے اس کے تحت معاملات کو طے کیا جائے گا، دیکھیے سب سے بڑا معاملہ یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف جو مقدمات ہیں وہ سیاسی کیسز ہیں، ان کا فیصلہ سیاسی سطح پر ہونا ہے۔
تجزیہ کار شکیل انجم نے کہا جہاں تک ان کی ذات کا مسئلہ ہے ایک شعر کا مصرع ہے کہ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔ خان صاحب کی جب بات چیت ہونے لگتی ہے تو ان کو بتایا جاتا ہے کہ اگر آپ اس طریقے سے رہا ہو کر باہر آئیں گے تو آپ کی جو پاپولیرٹی ہے وہ ختم ہو جائے گی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔