حماس کی اسرائیل کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کیلئے نئے مذاکرات پر آمادگی
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کے ساتھ غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے نئے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس کے سینیئر رہنما خلیل الحیا نے ایک بیان میں کہا کہ "ہم ایک نئی، سنجیدہ مذاکراتی کوشش کے لیے تیار ہیں، جس کا مقصد مستقل جنگ بندی معاہدہ حاصل کرنا ہے"۔
انہوں نے کہا کہ ثالثی کرنے والے ممالک سے رابطے جاری ہیں تاکہ معاہدے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
حماس کے چیف مذاکرات کار نے واضح کیا کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کی تجاویز کو حماس نے مسترد نہیں کیا تھا، بلکہ صرف ان میں چند ترامیم کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں اسرائیل نے جنگ بندی کے حوالے سے امریکی منصوبے کو تسلیم کر کے اس پر دستخط کر دیے تھے، تاہم حماس نے بعض نکات پر اعتراض کرتے ہوئے منصوبہ فی الحال قبول نہیں کیا۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی مجوزہ منصوبے میں 60 روزہ جنگ بندی کے بدلے 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی شامل تھی، جبکہ دو مراحل میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی اس معاہدے کا حصہ تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔