اسرائیل نے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے حماس کو ختم کرنے کے لیے غزہ کے جرائم پیشہ گروہ کو خودکار اسلحہ فراہم کرنا شروع کر دیا۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق حکومت نے غزہ میں حماس کے خلاف مزاحمت بڑھانے کے لیے مقامی جرائم پیشہ گروہوں بالخصوص "ابو شباب" کی پشت پناہی شروع کردی۔

اس بات کا انکشاف سابق وزیر دفاع آویگڈور لیبرمین کے بیان اور بعد ازاں سیکیورٹی ذرائع کی تصدیق کے بعد ہوا۔

اسرائیل کے سابق وزیر دفاع نے مقامی میڈیا کو انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے سیکیورٹی کابینہ کی منظوری کے بغیر یکطرفہ طور پر یہ متنازع فیصلہ کیا ہے۔

سابق وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیلی حکومت ایک ایسے جرائم پیشہ گروہ کو ہتھیار دے رہی ہے جو ماضی میں اپنا تعلق فخریہ طور پر داعش سے بتاتی تھی۔

خیال رہے کہ ابو شباب جنوبی غزہ کے شہر رفح میں کافی سرگرم ہے جس کی قیادت یاسر ابو شباب کے ہاتھ میں ہے۔

ابوشباب پہلے بھی مصری شدت پسندوں کے ساتھ اسمگلنگ میں ملوث رہا ہے اور ان پر انسانی امداد لوٹنے کے الزامات بھی لگتے آئے ہیں۔

حالیہ ویڈیوز میں گروہ کے ارکان کو فلسطینی پرچم والے وردیوں میں دیکھا گیا، جن پر کاؤنٹر ٹیررازم میکنزم تحریر تھا۔ یہ ویڈیوز اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں میں بنائی گئیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے لیبرمین کے دعوے کو مسترد کردیا تاہم اس بات کی تصدیق بھی کہ البتہ سیکیورٹی اداروں کی سفارشات پر حماس کو ختم کرنے کے لیے کئی مختلف طریقے استعمال کر رہے ہیں۔

تاہم بعد میں ایک ویڈیو بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے تصدیق کی کہ ہم  نے سیکیورٹی مشاورت کے بعد ایسے قبائل سے رابطہ کیا جو حماس کے خلاف ہیں۔ اس میں کچھ غلط نہیں، اس سے ہمارے فوجی جوانوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

اسرائیل کے دفاعی ذرائع نے عالمی خبر رساں ادارے کو تصدیق کی کہ اسرائیل نے ابو شباب گروہ کو کلاشنکوف رائفلز فراہم کیں جن میں کچھ وہ بھی شامل تھیں جو جنگ کے دوران حماس سے ضبط کی گئی تھیں۔

دفاعی ذرائع یہ بھی وضاحت کی یہ ابو شباب کو اسلحہ اور آشیرباد کی فراہمی کا نیتن یاہو فیصلہ سیکیورٹی کابینہ کی منظوری کے بغیر کیا۔

ادھر حماس نے گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو جاری کی جس میں ابو شباب گروہ کے ارکان کو ایک عمارت کے باہر کارروائی کے دوران دھماکے سے اڑایا گیا۔

لبنانی اخبار سے بات کرتے ہوئے حماس کے ذرائع نے تصدیق کی کہ گروہ ان کے لیے درد سر بن چکا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ اس گروہ میں تقریباً 300 افراد شامل ہیں جن میں سے 50 کو ذاتی طور پر ابو شباب نے بھرتی کیا جبکہ باقی مبینہ طور پر فلسطینی اتھارٹی کے انٹیلیجنس نیٹ ورک کے ذریعے لائے گئے۔

 .

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جرائم پیشہ گروہ نیتن یاہو گروہ کو کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش