لاہور: مویشی منڈی سے قربانی کے بکرے رکشے میں لوڈ کر کے فرار ہونے والا ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
لاہور:
پنجاب پولیس نے مویشی منڈی سے قربانی کے بکرے رکشے میں لوڈ کر کے فرار ہونے والے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
ایس پی کینٹ کی ہدایت پر ہیئر پولیس نے ملزم صابر کو قربانی کے بکروں اور رکشہ سمیت گرفتار کیا، پولیس نے شہری فرخ کی مدعیت میں نا معلوم ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
دوسری جانب گزشتہ 7 روز میں لاہور سمیت صوبہ بھر میں 59 مویشی چوروں کو گرفتار کیا گیا۔ ملزمان کے قبضے سے 168 چوری شدہ مویشی برآمد کرکے اصل مالکان کے حوالے کردیے گئے۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق برآمد شدہ مویشیوں میں 23 گائے، 124 بکرے، 21 دیگر جانور شامل ہیں، لاہور سمیت صوبہ بھر کی 230 مویشی منڈیوں کی سکیورٹی پر 4000 پولیس افسران و اہلکار تعینات ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈولفن اسکواڈ، پولیس رسپانس یونٹ سمیت 284 پٹرولنگ ٹیمیں مویشی منڈیوں کے اطراف پٹرولنگ میں مصروف ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔