ایزی پیسہ کاعیدالاضحیٰ کے موقع پر مویشی منڈیوں میں خریدوفروخت ڈیجیٹائز کرنے کے حوالے سے اہم قدم
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
عیدالاضحیٰ پر قربانی میں ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک نے مویشی منڈی میں خرید و فروخت کو ڈیجیٹل بنانے اور صارفین کو اپنی قربانی کی مذہبی ذمہ داریاں آسانی سے ادا کرنے کی سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایزی پیسہ کی جانب سے پاکستان بھر میں منتخب مویشی منڈیوں میں راست پر مبنی کیو آر کوڈ ادائیگی نظام نصب کیا گیا ہے۔ جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ‘گو کیش لیس’ مہم کا حصہ ہے۔ اس مہم کا مقصد راست انسٹنٹ پیمنٹ سسٹم کے ذریعے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو فروغ دینا اور مالیاتی رسائی کو وسیع کرنا ہے۔
یہ سہولت کراچی، لاہور، اسلام آباد اور ملتان جیسے بڑے شہروں کی منتخب مویشی منڈیوں میں دستیاب ہے، جہاں ایزی پیسہ کے صارفین اور دیگر ڈیجیٹل بینکنگ ایپس یا والیٹس ، Wallets کے صارفین بغیر کسی رکاوٹ کے ادائیگیاں کرسکتے ہیں۔ رقم بھیجنے کے لیے، صارفین ایزی پیسہ ایپلیکیشن کی ہوم اسکرین پر موجود اسکین کوڈ (Scan Code) آپشن کو منتخب کر کے کیو آر کوڈ اسکین کر کہ مطلوبہ رقم درج کرکے لین دین مکمل کرسکتے ہیں ۔ اسی طرح، ادائیگی وصول کرنے کے لیے صارفین ایزی پیسہ ایپ پر رقم کی وصولی(Receive Money) کے آپشن کے ذریعے اسٹیٹک یا ڈائنامک کیو آر کوڈ استعمال کر سکتے ہیں۔ ایزی پیسہ صارفین اعتماد کے ساتھ اپنی قربانی کی ذمہ داری بھی ادا کرسکتے ہیں، جس کے لیے ایزی پیسہ پلیٹ فارم میں موجود شوکت خانم منی ایپ کے ذریعے عطیہ کیا جا سکتا ہے۔
عیدالاضحی کے موقع پر پاکستان میں بڑے پیمانے پر معاشی سرگرمیاں ہوتی ہیں جن کا 2024 میں تخمینہ تقریباً 839.
ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر اور سی ای او، جہانزیب خان نے اس سہولت کے اجراء کےحوالے سے کہا کہ پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل بینک کے طور پر ایزی پیسہ ہمیشہ سے ٹیکنالوجی اور سہولت کو یکجا کرتے ہوئے صارفین کو عیدالاضحی پر محفوظ طریقے سے لین دین کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔ وہ وقت گزر چکا ہے جب لوگوں کو مویشی خریدنے کے لیے بڑی رقم نقد ساتھ لے جانی پڑتی تھی۔ ہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے ملک کے مالیاتی نظام کو ڈیجیٹل بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، اور راست ادائیگی نظام کے ذریعے عوام اور بیوپاریوں کے لیے ہموار لین دین کا تجربہ فراہم کیا۔
ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے ہیڈ آف والیٹ بزنس، فرحان حسن نے کہا کہ ایزی پیسہ اسٹیٹ بینک کے مالیاتی شمولیت کے مشن اور ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار پاکستان کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پرعزم ہے۔ کیو آر کوڈ پر مبنی ادائیگی کا حل مویشی منڈی کے لین دین کو ڈیجیٹائز کرتا ہے، جو صارفین اور تاجروں دونوں کے لیے آسان ہے۔
ایزی پیسہ مسلسل جدید ڈیجیٹل مالیاتی حل فراہم کرنے میں پیش پیش ہے جو صارفین کے تجربے کو آسان اور مؤثر بناتے ہیں۔ اس سے قبل ایزی پیسہ نے ‘عیدی پیسہ’ سروس متعارف کرائی، جو صارفین کو ڈیجیٹل عیدی بھیجنے کی سہولت فراہم کرتی ہے تاکہ عید کی خوشیاں اپنے پیاروں کے ساتھ بانٹی جاسکیں۔
ایزی پیسہ کے 5کروڑ سے زائد رجسٹرڈ صارفین اور پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل بینک ہونے پر ایزی پیسہ تجارتی سرگرمیاں شروع کر چکا ہے اور اسٹیٹ بینک کے وژن کے مطابق پاکستان میں معاشی ترقی اور ایک مستحکم، ڈیجیٹل طور پر بااختیار، مالیاتی طور پر مربوط معاشرہ قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل بینک اسٹیٹ بینک کیو آر کوڈ ایزی پیسہ کے ذریعے فراہم کر لین دین کرنے کے بینک کے کے لیے
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔