لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں برسی امام خمینیؒ کی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
تحریک بیداری امت مصطفیٰ کےسربراہ کا کہنا تھا کہ آج کا عالمِ اسلام داخلی خلفشار، فکری انتشار اور بیرونی تسلط کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، مگر نجات کا وہی واحد راستہ ہے جو امام خمینیؒ نے دکھایا، ایک آزمودہ، بابرکت اور واضح راستہ، جو ظلمت میں نور کی مانند رہنمائی کرتا ہے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں امام خمینیؒ کی برسی کے حوالے سے تقریب
لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں امام خمینیؒ کی برسی کے حوالے سے تقریب
لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں امام خمینیؒ کی برسی کے حوالے سے تقریب
لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں امام خمینیؒ کی برسی کے حوالے سے تقریب
لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں امام خمینیؒ کی برسی کے حوالے سے تقریب
لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں امام خمینیؒ کی برسی کے حوالے سے تقریب
لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں امام خمینیؒ کی برسی کے حوالے سے تقریب
لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں امام خمینیؒ کی برسی کے حوالے سے تقریب
لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں امام خمینیؒ کی برسی کے حوالے سے تقریب
لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں امام خمینیؒ کی برسی کے حوالے سے تقریب
لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں امام خمینیؒ کی برسی کے حوالے سے تقریب
لاہور، جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں امام خمینیؒ کی برسی کے حوالے سے تقریب
اسلام ٹائمز۔ بانی انقلاب اسلامی، آیت اللہ العظمیٰ امام خمینیؒ کی 36ویں برسی کے موقع پر جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں پُروقار تقریب منعقد ہوئی، جس سے تحریک بیداریٔ امت مصطفیؐ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے خصوصی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا عالمِ اسلام داخلی خلفشار، فکری انتشار اور بیرونی تسلط کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، مگر نجات کا وہی واحد راستہ ہے جو امام خمینیؒ نے دکھایا، ایک آزمودہ، بابرکت اور واضح راستہ، جو ظلمت میں نور کی مانند رہنمائی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام راحلؒ نے برسوں قبل اسرائیل کو 'صیہونی سرطان' قرار دیا تھا، لیکن افسوس کہ امت اُس وقت بیدار نہ ہو سکی۔صحافی : تصور حسین شہزاد.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی برسی کے حوالے سے تقریب جامعہ عروۃ الوثقی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔