تحریک بیداری امت مصطفیٰ کےسربراہ کا کہنا تھا کہ آج کا عالمِ اسلام داخلی خلفشار، فکری انتشار اور بیرونی تسلط کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، مگر نجات کا وہی واحد راستہ ہے جو امام خمینیؒ نے دکھایا، ایک آزمودہ، بابرکت اور واضح راستہ، جو ظلمت میں نور کی مانند رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بانی انقلاب اسلامی، آیت اللہ العظمیٰ امام خمینیؒ کی 36ویں برسی کے موقع پر جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں پُروقار تقریب منعقد ہوئی، جس سے تحریک بیداریٔ امت مصطفیؐ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے خصوصی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا عالمِ اسلام داخلی خلفشار، فکری انتشار اور بیرونی تسلط کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، مگر نجات کا وہی واحد راستہ ہے جو امام خمینیؒ نے دکھایا، ایک آزمودہ، بابرکت اور واضح راستہ، جو ظلمت میں نور کی مانند رہنمائی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام راحلؒ نے برسوں قبل اسرائیل کو 'صیہونی سرطان' قرار دیا تھا، لیکن افسوس کہ امت اُس وقت بیدار نہ ہو سکی۔

انہوں نے کہاکہ اگر بروقت امامؒ کی پکار پر لبیک کہا جاتا تو یہ ناسور آج جڑ سے ختم ہو چکا ہوتا۔ آج غزہ میں جو قیامت برپا ہے، اُس پر عالمِ اسلام، خصوصاً پاکستان کی خاموشی صیہونی جرائم کی سب سے بڑی پشت پناہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے امریکہ کا اسلحہ، عرب دنیا کا سرمایہ اور مغرب کی حمایت اسرائیل کو حاصل ہے، ویسے ہی مسلم دنیا کی مجرمانہ خاموشی بھی ان جرائم کے تسلسل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ کا پیغام آج بھی پوری امتِ مسلمہ کیلئے نجات کا راستہ ہے۔ اُن کے افکار، انقلابی بصیرت اور استکبار دشمنی کی روح کو زندہ رکھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا

رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔

امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم