UrduPoint:
2026-07-24@03:31:21 GMT

پوٹن کی ایران، امریکہ جوہری مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش

اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT

پوٹن کی ایران، امریکہ جوہری مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 06 جون 2025ء) روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات چیت کے بعد کریملن نے جمعرات کو تصدیق کی کہ روسی صدر نے تہران کے ساتھ ماسکو کے قریبی تعلقات کو ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے استعمال کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

ایران جوہری مذاکرات میں امید افزا پیش رفت

کریملن کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق، پوٹن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس طویل عرصے سے جاری جوہری تنازع کو حل کرنے کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کے لیے ایران کے ساتھ اپنی شراکت داری کا فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا، ’’ہمارے تہران کے ساتھ قریبی شراکت داری کے تعلقات ہیں، اور قدرتی طور پر، صدر پوٹن نے کہا کہ ہم تہران کے ساتھ شراکت کی اس سطح کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ مذاکرات میں سہولت اور تعاون فراہم کیا جا سکے۔

(جاری ہے)

‘‘

ٹرمپ کا ردعمل

ٹرمپ نے پوٹن کو فون کال کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے لیے فیصلہ کرنے کا وقت ختم ہو رہا ہے اور پوٹن کا خیال ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

امریکہ کے ساتھ ساتھ جوہری مذاکرات ’’تعمیری‘‘ رہے، ایران

ٹرمپ نے مزید کہا کہ پوٹن نے تجویز دی تھی کہ وہ ذاتی طور پر مذاکرات کو تیزی سے انجام تک پہنچانے کی کوششوں میں شامل ہو سکتے ہیں، حالانکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایران اس عمل کو ’’سست رفتار‘‘ کر رہا ہے۔

پیسکوف نے یہ واضح نہیں کیا کہ پوٹن کب براہ راست شرکت کر سکتے ہیں لیکن انہوں نے تصدیق کی کہ ماسکو، واشنگٹن اور تہران کے درمیان مختلف چینلز کے ذریعے بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ضروری ہوا تو صدر اس میں شامل ہوں گے۔ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں

جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں بالواسطہ بات چیت کے ذریعے جاری ہیں، جس میں عمان ایک اہم ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے۔

امریکہ کی تازہ ترین تجویز گزشتہ ہفتے عمانی حکام کے ذریعے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان ملاقات کے دوران پیش کی گئی۔

مذاکرات کے پانچ ادوار کے باوجود بڑی رکاوٹیں باقی ہیں۔ ایران نے اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی بند کرنے یا انتہائی افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے کو برآمد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

دریں اثنا، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بدھ کے روز یورینیم کی افزودگی روکنے کے خیال کو مسترد کر دیا، جو مذاکرات میں ایک اہم امریکی مطالبہ تھا- انہوں نے اسے ایران کے قومی مفادات کے صد فیصد خلاف قرار دیا۔

خامنہ ای نے مذاکرات ختم کرنے کا عندیہ تو نہیں دیا ہے لیکن وہ ان مراعات کی مخالفت میں ڈٹے ہوئے ہیں جو ان کے خیال میں ایران کی خودمختاری پر سمجھوتہ کرتے ہیں۔

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مذاکرات میں تہران کے ایران کے انہوں نے کے ساتھ کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل