پوٹن کی ایران، امریکہ جوہری مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 06 جون 2025ء) روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات چیت کے بعد کریملن نے جمعرات کو تصدیق کی کہ روسی صدر نے تہران کے ساتھ ماسکو کے قریبی تعلقات کو ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے استعمال کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ایران جوہری مذاکرات میں امید افزا پیش رفت
کریملن کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق، پوٹن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس طویل عرصے سے جاری جوہری تنازع کو حل کرنے کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کے لیے ایران کے ساتھ اپنی شراکت داری کا فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا، ’’ہمارے تہران کے ساتھ قریبی شراکت داری کے تعلقات ہیں، اور قدرتی طور پر، صدر پوٹن نے کہا کہ ہم تہران کے ساتھ شراکت کی اس سطح کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ مذاکرات میں سہولت اور تعاون فراہم کیا جا سکے۔
(جاری ہے)
‘‘
ٹرمپ کا ردعملٹرمپ نے پوٹن کو فون کال کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے لیے فیصلہ کرنے کا وقت ختم ہو رہا ہے اور پوٹن کا خیال ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
امریکہ کے ساتھ ساتھ جوہری مذاکرات ’’تعمیری‘‘ رہے، ایران
ٹرمپ نے مزید کہا کہ پوٹن نے تجویز دی تھی کہ وہ ذاتی طور پر مذاکرات کو تیزی سے انجام تک پہنچانے کی کوششوں میں شامل ہو سکتے ہیں، حالانکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایران اس عمل کو ’’سست رفتار‘‘ کر رہا ہے۔
پیسکوف نے یہ واضح نہیں کیا کہ پوٹن کب براہ راست شرکت کر سکتے ہیں لیکن انہوں نے تصدیق کی کہ ماسکو، واشنگٹن اور تہران کے درمیان مختلف چینلز کے ذریعے بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ضروری ہوا تو صدر اس میں شامل ہوں گے۔ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیںجوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں بالواسطہ بات چیت کے ذریعے جاری ہیں، جس میں عمان ایک اہم ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے۔
امریکہ کی تازہ ترین تجویز گزشتہ ہفتے عمانی حکام کے ذریعے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان ملاقات کے دوران پیش کی گئی۔
مذاکرات کے پانچ ادوار کے باوجود بڑی رکاوٹیں باقی ہیں۔ ایران نے اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی بند کرنے یا انتہائی افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے کو برآمد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
دریں اثنا، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بدھ کے روز یورینیم کی افزودگی روکنے کے خیال کو مسترد کر دیا، جو مذاکرات میں ایک اہم امریکی مطالبہ تھا- انہوں نے اسے ایران کے قومی مفادات کے ’صد فیصد‘ خلاف قرار دیا۔
خامنہ ای نے مذاکرات ختم کرنے کا عندیہ تو نہیں دیا ہے لیکن وہ ان مراعات کی مخالفت میں ڈٹے ہوئے ہیں جو ان کے خیال میں ایران کی خودمختاری پر سمجھوتہ کرتے ہیں۔
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مذاکرات میں تہران کے ایران کے انہوں نے کے ساتھ کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی مکمل عوامی ریلیز سے
پہلے وفاقی حکومت کو ان تک رسائی فراہم کریں تاکہ ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع
اس حکم نامے کے مطابق کمپنیوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر ایک بینچ مارکنگ عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جس کے ذریعے ماڈلز کی ’اعلیٰ سائبر صلاحیتوں‘ کا جائزہ لیا جائے گا
اور یہ طے کیا جائے گا کہ آیا انہیں ’کورڈ فرنٹیئر ماڈل‘ قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں۔
The Trump administration will ask leading AI developers to voluntarily submit their most capable models for government cybersecurity tests before releasing them to the public, according to an executive order, as security fears mount in Washington over powerful new AI systems such…
— Reuters (@Reuters) June 3, 2026
اس کے علاوہ کمپنیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی وسیع پیمانے پر ریلیز سے 30 روز قبل حکومت کو ان تک رسائی دیں۔
حکم نامہ حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ ان ’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘ کے انتخاب میں معاونت کرے جنہیں ابتدائی رسائی فراہم کی جائے گی۔
حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس شق کو اس طرح نہیں سمجھا جائے گا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز، بشمول فرنٹیئر ماڈلز، کی تیاری، اشاعت، اجرا یا تقسیم کے لیے لازمی
لائسنسنگ، پیشگی منظوری یا اجازت نامے کا نظام نافذ کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں:
صدر ٹرمپ نے یہ حکم نامہ نجی طور پر دستخط کیا، چند ہفتے قبل انہوں نے معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک دستخطی تقریب ملتوی کر دی تھی اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ
انہیں مجوزہ حکم نامے کے بعض پہلو پسند نہیں آئے تھے۔
یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کی ترقی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
پیر کے روز اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اعلان کیا کہ اس نے ابتدائی عوامی حصص فروخت کے لیے خفیہ طور پر امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں درخواست جمع کرا دی ہے۔
مزید پڑھیں:
اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی بھی رواں سال ممکنہ شیئرز کی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے۔
دوسری جانب ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس، جو ان کی اے آئی لیبارٹری اسپیس ایکس اے آئی کی مالک بھی ہے، ممکنہ طور پر ان دونوں کمپنیوں سے پہلے اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہو
سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس کی مارکیٹ ویلیو ایک کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی بدولت غیرمعمولی ترقی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی صنعت نے وائٹ ہاؤس کی اے آئی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
سرمایہ کار ڈیوڈ سیکس، جو ایلون مسک کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، رواں سال کے آغاز تک وائٹ ہاؤس کے پہلے ’کرپٹو اور اے آئی زار‘ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکس، مسک اور مارک زکربرگ نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے ایک سابقہ اے آئی حکم نامے کی مخالفت کی تھی جس پر صدر دستخط کرنے والے
تھے۔
یہ نیا حکم نامہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب اینتھروپک نے رواں سال کلاؤڈ مائتھوس پری ویو نامی ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا جسے سافٹ ویئر میں کمزوریوں اور سیکیورٹی نقائص کی
نشاندہی میں غیرمعمولی مہارت حاصل ہے۔
کمپنی نے ابتدا میں اس ماڈل کو ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ نامی سائبر سیکیورٹی اقدام کے تحت محدود تعداد میں اداروں کو فراہم کیا تھا، جسے منگل کے روز مزید وسعت دی گئی۔
مائتھوس کی رونمائی کے بعد اینتھروپک کے نمائندوں کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، جن میں وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ شامل ہیں، سے متعدد اہم
ملاقاتیں بھی ہوئیں۔
ٹرمپ کے حکم نامے میں مختلف سرکاری ہدایات اور رہنما اصول مرتب کرنے کے لیے کئی ٹائم فریمز دیے گئے ہیں۔ خصوصاً امریکی محکمہ دفاع کو اپنے معلوماتی نظاموں کے سائبر دفاع کو
ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تاہم محکمہ دفاع نے اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈلز سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، مائتھوس کی ریلیز سے کچھ عرصہ قبل محکمہ نے کمپنی کو ’سپلائی چین رسک‘ قرار دیا تھا۔
اس درجہ بندی کے تحت اینتھروپک کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کیا جاتا ہے اور دفاعی ٹھیکیداروں کو محکمہ دفاع کے ساتھ اپنے کام میں کمپنی کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوپن اے آئی ٹرمپ ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت وائٹ ہاؤس