گولڈن ٹیمپل پر بھارتی سکھوں کیخلاف کیے گئےآپریشن بلیو سٹار کو 41 سال مکمل
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
بھارتی سکھوں کے خلاف گولڈن ٹیمپل پر کیے گئے آپریشن بلیو اسٹار کو 41 برس مکمل ہو گئے۔ بھارتی سکھوں کو لگائے گئے1984کے یہ زخم آج بھی تازہ ہیں اور اسی طرح سکھ برادری حق و انصاف کی آج بھی منتظر ہے۔
بھارتی فوج نے گولڈن ٹیمپل کا تقدس پامال کیا جو آج بھی بھارتی سکھوں کے دلوں میں خنجر کی طرح پیوست ہے۔ آپریشن بلیو اسٹارکو 41 سال مکمل ہو گئے، لیکن سکھوں کےدل اب بھی اداس ہیں۔ بھارت کے اس ظلم کیخلاف آواز آج بھی گونجتی ہے، جسے سکھ بھولے ہیں نہ کبھی بھولیں گے۔
خالصہ کا وقار پامال ہوا، لیکن ایمان مضبوط تر ہوا،1984ء کو یاد رکھنا سکھوں کا فرض ہے۔ آپریشن بلیو اسٹار تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 1984 میں بھارتی سکھوں پر کیے گئے مظالم اور خون کے دھبے مٹائے نہیں جا سکتے۔
آپریشن بلیو اسٹار میں بھارتی فوج نے سانت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کو اکال تخت میں قتل کیا۔ جنرل شبھگ سنگھ، سابق بھارتی فوجی افسرکو گولڈن ٹیمپل میں قتل کیا گیا۔ امریک سنگھ، آل انڈیا سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر کو بھی فوجی کارروائی میں مار دیا گیا ۔ اسی طرح مہنگا سنگھ ببر، ببر خالصہ کے بانی رکن کو بھی گولڈن ٹیمپل میں مار دیا گیا ۔
بھارتی فوج نے 13 سالہ بے گناہ سربجیت سنگھ دادھر کو بھی مار دیا جو کہ سب سے کم عمر تھا ۔ سکھ تنظیموں کے مطابق آپریشن بلیو اسٹارمیں 5000 سے زائد بے گناہ سکھ یاتریوں کو مار دیا گیا۔
ہر سال جون میں سکھ برادری آپریشن بلیو اسٹار میں مارے جانے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آپریشن بلیو اسٹار بھارتی سکھوں گولڈن ٹیمپل مار دیا آج بھی
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔