بغیر کسی ٹریننگ اور ڈائیٹ کے 89 کلو وزن کم کرنے والی خاتون
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
ایک بھارتی خاتون پرنجال پانڈے نے بغیر کسی سخت ڈائیٹ یا شدید ورزش کے 89 کلوگرام وزن کم کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔
انہوں نے 154 کلوگرام سے اپنا وزن کم کر کے 65 کلوگرام تک پہنچایا اور اس کامیابی کا سہرا انہوں نے سادہ اور پائیدار طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کو دیا۔
پرنجال کی وزن کم کرنے کی حکمتِ عملی
پرنجال نے اپنی فٹنس کی کامیابی کے لیے درج ذیل پانچ سادہ مگر مؤثر عادات اپنائیں:
متوازن غذا پر توجہ
انہوں نے خوراک کی مقدار کم کرنے کے بجائے اس کے معیار پر توجہ دی۔ ان کی غذا میں پروٹین (جیسے دالیں، انڈے، پنیر) اور فائبر (جیسے سبزیاں، دالیں) شامل تھیں، جو انہیں زیادہ دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس دلاتی تھیں۔
سخت ورزش کے بجائے وزن اٹھانے کی مشقیں
انہوں نے ہائی انٹینسٹی ورزشوں کے بجائے وزن اٹھانے کی مشقوں کو ترجیح دی، جس سے ان کا میٹابولزم بہتر ہوا اور پٹھے مضبوط ہوئے۔
روزمرہ کی سادہ عادات
پرنجال نے روزانہ کی سادہ عادات، جیسے وقت پر سونا، پانی کا مناسب استعمال، اور دن بھر میں ہلکی پھلکی سرگرمیاں شامل کیں، جو ان کی مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئیں۔
مثبت ذہنیت اور جرنلنگ
انہوں نے اپنی پیش رفت کو نوٹ کرنے اور خود کو متحرک رکھنے کے لیے جرنلنگ کا سہارا لیا، جس سے ان کی ذہنی صحت بھی بہتر ہوئی۔
پائیدار طرزِ زندگی
پرنجال نے کسی بھی "کریش ڈائیٹ" یا سخت ورزش کے بجائے ایسی عادات اپنائیں جو وہ طویل عرصے تک جاری رکھ سکیں، جس سے ان کا وزن کم کرنے کا سفر مؤثر اور دیرپا ثابت ہوا۔
View this post on InstagramA post shared by Pranjal Pandey (@transformwithpranjal)
پرنجال پانڈے کی یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے سخت ڈائیٹ یا شدید ورزش ضروری نہیں، بلکہ سادہ، مستقل اور پائیدار عادات اپنا کر بھی صحت مند زندگی کی طرف قدم بڑھایا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کے بجائے کے لیے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ