چین کا جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ مل کر عالمی صنعتی چین کی حفاظت کو یقینی بنانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
بیجنگ :چینی وزارت تجارت کے ایک نمائندے نے کہا کہ چین جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ مل کر تجارت، سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کے ذریعے صنعتی اور سپلائی چین کے شعبوں میں تعاون کرنے، نیز عالمی صنعتی اور سپلائی چین کی حفاظت، استحکام اور فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔جمعہ کے روز چینی وزارت تجارت کے نائب وزیر یان ڈونگ نے کہا کہ اسٹرکچرل انتظامات کے حوالے سے، چین خواہاں جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ نئے “دو طرفہ سرمایہ کاری کی ترغیب اور تحفظ کے معاہدے” پر دستخط کرنے یا موجودہ معاہدوں کو اپ گریڈ کرنے، نیز تجارت کی ہمواری، صنعتی و سپلائی چین اور ای کامرس جیسے شعبوں میں تعاون کے یادداشتوں پر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔اس طرح کثیر اور دو طرفہ اقتصادی و تجارتی تعاون کے میکانزمز کو فروغ دیا جائے گا تاکہ چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان ہموار، مستحکم اور مضبوط صنعتی و سپلائی چین کو تشکیل دیا جا سکے اور تجارتی و سرمایہ کاری تعاون کو مزید گہرا کیا جا سکے۔ تعاون کے پلیٹ فارمز کے حوالے سے، چین مختلف پلیٹ فارمز کے کردار کو بہتر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ چینی کمپنیوں کے صنعتی و سپلائی چین کے تعاون کو فروغ دے گا اور تجارت و سرمایہ کاری کی یکجا ترقی کو یقینی بنائے گا۔ معاون خدمات کے شعبے میں، چین بیرون ملک سرمایہ کاری اور تعاون کے لیے ملکی گائیڈز، تجارتی فروغ کے رہنما خطوط جیسے عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنائے گا اور بیرون ملک جامع سروس نظام کو مکمل کرے گا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری سپلائی چین تعاون کے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔