عیدالاضحیٰ آج منائی جائیگی، صدر، وزیراعظم کی مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
لاہور‘ اسلام آباد‘ مظفر آباد‘ پشاور (نوائے وقت رپورٹ+ نمائندہ خصوصی+ نامہ نگار+ بیورو رپورٹ) ملک بھر میں آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و جذبے سے منائی جائے گی۔ صدر اور وزیراعظم نے عیدالاضحیٰ پر قوم کو مبارک باد دی ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے عیدالاضحیٰ کے مبارک موقع پر عالم اسلام اور پوری پاکستانی قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دن ایمان‘ قربانی‘ ایثار اور بھائی چارے کے جذبے کو ازسرنو زندہ کرنے کا دن ہے۔ عیدالاضحیٰٖ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال اطاعت‘ قربانی اور تسلیم و رضا کی یاد تازہ کرتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی اطاعت میں ہی ہماری انفرادی اور اجتماعی کامیابی مضمر ہے۔ دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس دن کو ہمارے ملک اور پوری امت مسلمہ کے لئے خیر‘ برکت‘ اتحاد اور خوشحالی کا ذریعہ بنائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عید الاضحی کے موقع پر قوم کے نام پیغام میں کہا ہے کہ میں عید الاضحی اور عظیم الشان اسلامی عبادت حج کے بابرکت موقع پر پوری پاکستانی قوم اور عالم اسلام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ با برکت ایام ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت، ایثار اور قربانی کی یاد دلاتے ہیں۔ ان عظیم ہستیوں کی اطاعت و قربانی کو رب ذوالجلال نے اس قدر پسند فرمایا کہ اسے تا قیامت امت محمدی ؐ کے لیے عبادت کا درجہ عطا فرما دیا۔ دعا ہے اﷲ یہ دن ملکی خوشحالی کا ذریعہ بنائے۔ علاوہ ازیں مظفرآباد میں سب سے بڑا عید کا اجتماع مرکزی عیدہ گاہ اپر اڈہ میں ہوگا۔ جبکہ دیگر بڑے اجتماعات میں جامع مسجد مکہ شاہناڑہ، یونیورسٹی گرائونڈ، ہائی کورٹ گرائونڈ، مرکزی امام بارگاہ، جامع مسجد امام احمد بن حنبل، جامع ابو ہریرہ رنجاٹہ، جامع مسجد خضرہ، جامع مسجد دومیل سیداں، جامع مسجد خاتم النبیین چھتر دومیل، جامع مسجد تعلیم القرآن اپرگوجرہ، جامع مسجد نیوسٹی کیمپس جامع کشمیر، جامع مسجد اسلامیہ برکاتیہ، جامع مسجد محمدیہ اپر چھتر سمیت دیگر مقامات پر نماز عید کے بڑے بڑے اجتماعات ہوں گے۔ خیبر پی کے میں کئی مقامات پر قبائلیوں اور افغان مہاجرین نے جمعہ کے روز عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و خروش سے منائی۔ پشاور سمیت خیبر پی کے کے کئی مقامات پر قبائلیوں اور افغان مہاجرین نے جمعہ کو عید الاضحی منائی جہاں انہوں نے نماز عید ادا کی۔ مقامی ذرائع کے مطابق حیات آباد، بورڈ بازار، کارخانو مارکیٹ، شمشتو کیمپ، ناصر باغ میں نماز عید الاضحیٰ ادا کی گئی۔ دوسری جانب مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ صوبے میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر جامع صفائی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کے تحت عیدگاہوں، عوامی مقامات اور قربانی کے لیے مختص کردہ مقامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خلیجی ریاستوں سمیت کئی ممالک میں عیدالاضحی جمعہ کے روز مذہبی جوش وخروش سے منائی گئی۔ ابوظہبی، شارجہ اور دیگر اماراتی ریاستوں میں بھی نماز عید ادا کی گئی۔ دریں اثناء کراچی میں بھی بوہرہ برادری نے گزشتہ روز عید الاضحی مذہبی جوش و جذبے سے منائی۔ کراچی میں طاہری مسجد میں بوہرہ برادری کا نماز عید کا بڑا اجتماع ہوا۔ نماز کے دیگر اجتماعات صدر، پاکستان چوک، حیدری، بلوچ کالونی سمیت مختلف علاقوں میں ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عید الاضحی مقامات پر
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔