مشہور ٹاک ٹاکر کھابے لامے کو امریکا میں کیوں گرفتار کیا گیا؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
سوشل میڈیا کی دنیا کا جانا پہچانا چہرہ، کھابے لامے، جنہوں نے بنا ایک لفظ کہے دنیا کو قہقہوں کا تحفہ دیا، اب خود ایک سنجیدہ خبر کی زینت بن چکے ہیں۔ امریکا کے ہیرے ریڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر انہیں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔
یہ واقعہ 6 جون کو پیش آیا جب اٹلی کے شہری 25 سالہ ٹک ٹاک اسٹار کھابے لامے لاس ویگاس پہنچے تو امریکی امیگریشن حکام نے ان کے ویزا کی مدت سے تجاوز کی بنا پر انہیں حراست میں لے لیا۔ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے بعد ازاں تصدیق کی کہ کھابے لامے ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے، تاہم اسی روز انہیں ’رضاکارانہ واپسی‘ کی اجازت دے کر رہا کردیا گیا۔
واضح رہے کہ کھابے لامے کا تعلق سینیگال سے ہے، مگر وہ کم عمری میں اٹلی منتقل ہوگئے تھے اور 2022 میں اطالوی شہریت حاصل کی۔ ان کی شہرت کا آغاز اُس وقت ہوا جب کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران انہیں فیکٹری کی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اسی فارغ وقت میں انہوں نے مزاحیہ ویڈیوز بنانا شروع کیں جن میں وہ بنا کچھ کہے پیچیدہ ٹیوٹوریلز کا مذاق اڑاتے اور سادہ حل دکھا کر لوگوں کو ہنسنے پر مجبور کردیتے۔
ٹک ٹاک پر کھابے لامے کے مداحوں کی تعداد 162 ملین سے بھی زیادہ ہے، اور ان کا سادہ، خاموش اور مخصوص انداز دنیا بھر میں ان کی مقبولیت کا راز بن چکا ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے، یونیسیف کے خیرسگالی سفیر بھی ہیں۔ فوربز کے مطابق انہوں نے محض ایک سال میں، یعنی جون 2022 سے ستمبر 2023 تک، مختلف برانڈز اور مارکیٹنگ پروجیکٹس سے تقریباً 16.
ان کی گرفتاری کی خبر اس وقت مزید گرم ہوئی جب ٹرمپ کے حامی معروف سیاسی کارکن بو لوڈن نے دعویٰ کیا کہ کھابے لامے کے خلاف شکایت خود انہوں نے درج کروائی۔ اگرچہ ابتدائی طور پر اس دعوے کو مشکوک نظر سے دیکھا گیا، لیکن ICE کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان نے تمام افواہوں پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب امریکا میں امیگریشن قوانین مزید سخت کیے جا رہے ہیں، اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف اقدامات میں اضافہ ہوا ہے۔
فی الحال کھابے لامے کی طرف سے اس واقعے پر کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن سوشل میڈیا پر ان کے لاکھوں مداح بے چینی سے ان کے خیریت سے ہونے اور کسی وضاحت کے منتظر ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کھابے لامے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔