بھارتی وفد کو لندن میں منہ کی کھانی پڑی، پاکستان مخالف ایجنڈا ناکام ہوگیا؛ شیری رحمان
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
لندن:
پاکستانی اعلیٰ سطح وفد کی رکن سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ برطانیہ میں بھارتی وفد کی پاکستان مخالف کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں، کیونکہ ان کا ایجنڈا مبہم اور ناقابل فہم تھا۔
برطانوی دارالحکومت میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے بتایا کہ بھارتی وفد کی آمد کا مقصد پاکستان کے خلاف بیانات اکٹھے کرنا تھا، مگر وہ اس میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ ان کے مطابق بھارتی وفد کی پوزیشن نہ صرف کمزور تھی بلکہ ان کا مقصد بھی کسی کو واضح طور پر سمجھ نہیں آیا۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد برطانوی حکام کو بھارت کی جانب سے کیے جانے والے منفی پروپیگنڈے اور سفارتی چالوں سے مکمل طور پر آگاہ کرے گا تاکہ سچ دنیا کے سامنے آئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ 3 روز میں پاکستانی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری مختلف برطانوی تھنک ٹینکس اور میڈیا اداروں سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ پاکستان کا اعلیٰ سطح کا سفارتی وفد بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں حالیہ دنوں میں امریکا کا دورہ مکمل کر کے اب برطانیہ پہنچ چکا ہے۔ امریکی دورے کے دوران وفد نے اقوام متحدہ، امریکی کانگریس کے اراکین اور حکومتی نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کیں تھیں، جس میں پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا۔
برطانیہ میں جاری سفارتی سرگرمیوں کو پاکستانی حکام ایک اہم موقع قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد نہ صرف بھارت کے منفی پراپیگنڈے کو بے نقاب کرنا ہے بلکہ عالمی برادری کو خطے کی حقیقی صورتحال سے آگاہ کرنا بھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی وفد وفد کی
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔