ٹینیسی میں 20 افراد سے بھرا اسکائی ڈائیونگ طیارہ تباہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
امریکی ریاست ٹینیسی میں اتوار کے روز ایک اسکائی ڈائیونگ طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا، جس میں 20 مسافر اور عملے کے افراد سوار تھے۔ خوش قسمتی سے اس خوفناک حادثے میں کسی کی جان نہیں گئی، تاہم کئی افراد زخمی ہو گئے۔
حادثہ دوپہر 12:30 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق رات 10:30 بجے) ٹلہوما ریجنل ایئرپورٹ پر پیش آیا، جو نیش وِل کے جنوب میں واقع ہے۔ متاثرہ طیارہ "ڈی ہیوی لینڈ ڈی ایچ-6 ٹوِن اوٹر" تھا، جو اسکائی ڈائیونگ کی مہمات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
شہر کے ترجمان لائل رسل کے مطابق: "20 افراد سوار تھے، جن میں سے تین کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اور ایک کو زمین کے راستے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ دیگر کو موقع پر ہی طبی امداد دی گئی۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ: "زمین پر موجود کسی فرد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی ایئرپورٹ کی کسی سہولت کو نقصان پہنچا۔"
فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ٹینیسی ہائی وے پٹرول نے بتایا کہ ان کے اہلکار بھی موقع پر پولیس کی مدد کے لیے موجود تھے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں حادثے کا شکار سفید اور نیلے رنگ کا طیارہ گھاس میں دھنسا ہوا نظر آتا ہے، اس کی دم اور ایک پر ٹوٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اور قریب ہی پولیس کی گاڑیاں موجود ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔