لکی مروت: پولیس مقابلے میں فتنہ الخوارج کے 3 دہشتگرد ہلاک، پولیس اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
لکی مروت: پولیس مقابلے میں فتنہ الخوارج کے 3 دہشتگرد ہلاک، پولیس اہلکار شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 9 June, 2025 سب نیوز
خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس مقابلے کے دوران فتنہ الخوارج کے 3 دہشتگرد مارے گئے، جوابی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار بھی شہید ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق مقامی امن کمیٹی کی جانب سے قیام امن کی کوششوں کے باوجود لکی مروت میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشتگروں کی جانب سے حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جو لکی مروت میں دہشتگردوں کی موجودگی کا واضح اشارہ ہے۔
ترجمان لکی مروت پولیس کے مطابق دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں اہم مقامی کمانڈر چھوٹا وسیم گُنڈی خان خیل سمیت 3 خوارج مارے گئے۔
فائرنگ کے تبادلے میں پولیس اہلکار شاہداللہ گُنڈی خان خیل بھی زخمی ہوا، جسے فوری طور پر ڈسٹرک ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔
ترجمان کے مطابق پولیس کو دہشتگردوں کے گنڈی سے کوٹ کشمیر جانے کی اطلاع موصول ہوئی تھی، ریجنل پولیس آفیسر(آر پی او) بنوں ساجد خان اور آر پی او لکی مروت جاوید اسحٰق کی ہدایت پر پولیس اور مقامی امن کمیٹی نے دہشتگردوں کا پیچھا کیا، اس دوران دہشتگردوں اور پولیس اور امن کمیٹی کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
ترجمان کے مطابق پولیس اور امن کمیٹی کی جانب سے موقع پر ہی ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا گیا تاہم 2 دہشت گرد قریبی گھر میں گھس گئے اور بچوں اور خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے لگے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس دوران پولیس نے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے 2 گھنٹے تک دہشتگردوں کے ساتھ مقابلہ کیا، پولیس نے انتہائی مہارت سے بچوں اور خواتین کو دہشتگروں سے چھڑا کو محفوظ مقام پرمنتقل کیا اور دونوں دہشت گردوں کو وہیں مردیا۔، موقع سے دہشتگروں سے اسلح اور بارود بھی برآمد کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق مارے جانے والے دہشتگروں میں سے ایک کی کمانڈر چھوٹا وسیم کے نے نام سے شناخت ہوئی، جو دہشتگردوں کا مقامی کمانڈر بتایا جاتا ہے جب کہ ہلاک ہونے والا دہشتگرد پولیس کو مطلوب تھا، دیگر 2 دہشتگردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
اپریل 2025 میں دہشتگردوں کی جانب سے لکی مروت میں ایک بزرگ، اس کے 2 قریبی رشتے داروں اور ایک پڑوسی کو بے رحمانہ طریقے سے زخمی کرنے کے بعد مقامی امن کمیٹی اور دہشتگردوں میں جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔
گزشتہ ماہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کمانڈوز کی جانب سے ڈسٹرک لکی مروت کے دیہی علاقوں میں دہشتگردوں کیخلاف مشترکہ طور پر شروع کیا گیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان بزنس فورم کا اگلے مالی سال میں زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ بھارت سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا، پانی روکنا اعلان جنگ ہوگا، بلاول بھٹو مہنگائی پر قابو پا لیا، ملکی معیشت درست سمت میں ہے، وزیر خزانہ نے اقتصادی سروے پیش کردیا نیا مالی سال؛ دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافہ، قرض ادائیگی پر 6200 ارب خرچ ہوں گے بھارت کے انتہاپسند ہندوتوا نظریے سے پورے خطے کو خطرات لاحق ہیں، صدر مملکت پنجاب میں نان رجسٹرڈ ریسٹورنٹ اور شادی ہالوں کی رجسٹریشن کا فیصلہ اسرائیلی فوج کا غزہ تک امداد لے جانے والی کشتی پر ڈرونز سے حملہ، میڈلین کو قبضے میں لے لیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پولیس اہلکار لکی مروت
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔