عید کے دوسرے روز صوبے میں 1955 ٹریفک حادثات؛19 جاں بحق2560 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
سٹی 42: عید کے دوسرے روز صوبہ پنجاب میں 1955 ٹریفک حادثات ہوئے
ریسکیو حکام کے مطابق ٹریفک حادثات کے دوران 19 افراد جاں بحق ہوئے، مختلف اضلاع میں ہونیوالے حادثات میں 2560 افراد زخمی ہوئے،1203شدید زخمیوں کو طبی امداد کیلئے متعلقہ ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، 1357معمولی زخمیوں کو موقع پرطبی امداد فراہم کی گئی،ٹریفک حادثات میں زخمی افراد میں 1990 مرد، 570 خواتین شامل ہیں
ریسکیو حکام کے مطابق لاہورمیں عیدکےدوسرےروز303حادثات میں 414 افراد زخمی ہوئے،فیصل آباد 120، ملتان 103،گوجرانوالہ میں96 حادثات رپورٹ ہوئے،پنجاب کےمختلف اضلاع میں آگ لگنےکے153واقعات رپورٹ ہوئےعیدکےدوسرےروزلاہورمیں آتشزدگی کے43واقعات پرامدادی کارروائیاں کی گئیں،عیدکےدوسرےروزصوبےمیں دریاؤں اورنہروں میں ڈوبنےکے9واقعات پیش آئے،لاہورمیں2 اور سیالکوٹ میں بھی2 ڈوبنے کےواقعات پیش آئے،گوجرانوالہ اورفیصل آبادمیں ڈوبنےکاایک،ایک واقعہ پیش آیا،،جہلم،گجرات،منڈی بہاؤالدین میں بھی ڈوبنےکاایک،ایک واقعہ رپورٹ ہواعیدکےدوسرےروز12ہزارسےزائداہلکاروں نےفرائض انجام دیئے،
نیشنل اکیڈمی کو جدید بنانا میرا سب سے بڑا مقصد ہے: عاقب جاوید
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹریفک حادثات
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک