جامعہ کراچی میں پانی کی کوئی مرکزی لائن نہیں پھٹی، چیف انجینئر واٹر کارپوریشن
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
جامعہ کراچی حکام نے کہا تھا کہ جامعہ میں 36 انچ کی پانی کی پائپ لائن پھٹ گئی۔
واٹر کارپوریشن کے چیف انجینئر محمد اعجاز نے کہا ہے کہ جامعہ کراچی میں واٹر کارپوریشن کی کوئی مرکزی پانی کی لائن نہیں پھٹی، 36 انچ قطر کی لائن کے جوائنٹ میں لیکیج ہوئی ہے۔
چیف انجینئر کا کہنا ہے کہ لیک ہونے والی لائن صرف اسکیم 33 کو پانی فراہم کرتی ہے، لیک ہونے والے لائن سے کسی اور علاقے کی پانی کی فراہمی متاثر نہیں ہوگی۔
محمد اعجاز نے مزید کہا کہ اسکیم 33 کو گزشتہ رات معمول کے مطابق پانی فراہم کیا جا چکا ہے، اب شیڈول کے مطابق جمعرات کو پانی فراہم کیا جائے گا۔
جامعہ کراچی حکام کے مطابق یونیورسٹی قبرستان جانے والا راستہ مکمل زیرآب آگیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لیکیج کے باعث کسی بھی علاقے کی پانی کی فراہمی متاثر نہیں ہوگی، متاثرہ جوائنٹ پر مرمتی کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے، جو کل دوپہر تک مکمل کرلیا جائےگا۔
اس سے قبل جامعہ کراچی حکام نے کہا تھا کہ جامعہ میں 36 انچ کی پانی کی پائپ لائن پھٹ گئی، جبکہ 84 انچ کی پائپ لائن میں سوراخ ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کی پائپ لائن جامعہ کراچی کی پانی کی انچ کی
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔