وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا( حجم 17 ہزار 600 ارب روپے مقرر)
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد، ، دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافہ متوقع
ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 5 سے ساڑھے 7 فیصد تک اضافے کی تجویز
نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا ، جس کا حجم 17 ہزار 600 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق بجٹ میں مجموعی آمدن کا تخمینہ 19 ہزار 400 ارب اور ٹیکس وصولی کا ہدف 14 ہزار 130 ارب روپے ہے ،سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 5 سے ساڑھے 7 فیصد تک اضافے کی تجویز ہے ، بجٹ خسارے کا ہدف بھی یہی مقرر کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق نان ٹیکس آمدن دو ہزار 584 ارب روپے، صوبے ایک ہزار 220 ارب کا سرپلس دیں گے، دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافہ متوقع ہے،بجٹ میں تعلیم کیلئے 13 ارب 58 کروڑ اور صحت کیلئے 14 ارب 30 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ذرائع نے بتایا کہ گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کیلئے 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس ، گزشتہ 2 ایڈہاک میں سے ایک ایڈہاک تنخواہوں میں ضم کرنے کی بھی تجویز ہے۔اس کے علاوہ گریڈ 17 سے 22 تک 15 فیصد تنخواہوں میں اضافے ،آرمڈ فورسز کو کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم سے مستثنی ٰرکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 1153 ارب روپے وصولیوں ، سیلز ٹیکس ہدف سے 4943 ارب ، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں ایک ہزار 741 ارب ، نان ٹیکس آمدن سے 2 ہزار 584 ارب روپے وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔پیٹرولیم لیوی کا ہدف 1311 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے ، صنعتی ترقی کے فروغ کیلئے 7 ہزار سے زائد ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی میں کمی اورسمندر پار پاکستانیوں کیلئے پراپرٹی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز ہے۔علاوہ ازیں اوورسیز کیلئے پراپرٹی پر ٹیکس چھوٹ کیلئے این او سی کی پابندی ختم کئے جانے کا امکان ہے ، رئیل اسٹیٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی بھی تجویز ہے جبکہ پراپرٹی کی خریداری پر ایف ای ڈی ختم کئے جانے اور پراپرٹی کی خریداری پر لیٹ فائلرز، نان فائلرز کیلئے ایف ای ڈی میں ردوبدل کی تجاویز شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کی تجویز ہے ملازمین کی ارب روپے کرنے کی
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔