عید پر جانوروں کی فروخت میں مزید 30 فیصد کمی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) عید پر جانوروں کی فروخت میں مزید 30 فیصد کمی ہو جانے کا انکشاف، عید الاضحی2025 کا سیزن ممکنہ طور پر پاکستان کی 78 سالہ تاریخ کا بدترین سیزن قرار۔ تفصیلات کے مطابق عید الاضحی 2025 کے موقع پر جانوروں کی خرید و فروخت کے اعداد و شمار سے متعلق مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے تشویش ناک انکشاف کیا گیا ہے۔مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ عید پر جانوروں کی فروخت میں 30 فیصد کمی ہوئی ہے، جو صاف ظاہر کرتی ہے کہ ملک کی معیشت کساد بازاری کا شکار ہے۔ یہ کمی پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں بدترین ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب عید کے تیسرے روز شہر قائد میں عیدالاضحی کی مناسبت سے لائے گئے جانوروں کی قیمتوں میں تقریبا 50 فیصد کمی دیکھنے میں آ ئی تاہم خریداروں کی کمی کے باعث منڈیوں میں ویرانی چھائی رہی۔بیوپاریوں نے عید کے تیسرے دن میں جانوروں کے ریٹ 50 فیصد تک گرا دیے اور خریدار کم ہوتے ہی بیوپاری سستے داموں جانور فروخت کرنے لگے تاہم قربانی کی گہما گہمی کے بعد یونیورسٹی روڈ پر قائم منڈی میں سناٹا چھا گیا ہے۔منڈی میں جانوروں کی قیمتوں میں 50 فیصد کمی کے باوجود ویرانی نظر آئی اور زیادہ تر بیوپاری اپنے جانور بیچ کر آبائی علاقوں کو روانہ ہو چکے ہیں جب کہ باقی رہ جانے والے بیوپاری اس آس میں ہیں کہ جانور بک جائیں گے۔ایک بیوپاری نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیڑھ کروڑ کا جانور لاڑکانہ سے لائے ہیں جو کہ 70 لاکھ روپے میں بھی نہیں بک رہا۔ انتظامیہ کی جانب سے صاف ستھرا پانی فراہم نہیں کیا جا رہا تھا ہم پانی کے 5 ڈرم 1500 روپے میں خریدنے پر مجبور ہیں۔بیوپاری کا کہنا تھا کہ 4لاکھ روپے کرایہ کرکے یہاں پر پہنچے ہیں مگر یہاں کے شہری ہیں کہ مزید کم قیمت میں جانور چاہتے ہیں۔4 لاکھ کا جانور 2 لاکھ میں دے رہے ہیں۔ 7 لاکھ کا جانور خریدار 2 لاکھ میں چاہتا ہے ہم اپنا نقصان کیوں کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پر جانوروں کی فیصد کمی
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔