جنسی ہراسانی کیس؛ بلیک لولی کو جسٹن بالڈونی کیخلاف قانونی جنگ میں بڑی کامیابی مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
ہالی ووڈ اداکارہ بلیک لولی کو فلم It Ends With Us کے ہدایتکار اور ساتھی اداکار جسٹن بالڈونی کے خلاف ہتک عزت کیس میں فتح حاصل ہوئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 9 جون کو ایک امریکی عدالت نے بالڈونی کی جانب سے دائر کیا گیا 400 ملین امریکی ڈالر کا ہتکِ عزت کا دعویٰ مسترد کر دیا۔ یہ دعویٰ نہ صرف بلیک لولی بلکہ ان کے شوہر، اداکار ریان رینولڈز، ان کی پبلسِسٹ لیسلی سلون اور دی نیویارک ٹائمز کے خلاف بھی دائر کیا گیا تھا۔
عدالت کے جج لیوس جے لیمین نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ لولی کے الزامات قانونی تحفظ کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد بلیک لولی کے وکلاء نے اسے "مکمل فتح" قرار دیتے ہوئے اسے "ظالمانہ قانونی کارروائی سے نجات" کا لمحہ قرار دیا۔
انہوں نے عدالت سے وکلا کی فیس، تعزیری ہرجانے اور دیگر قانونی فوائد کا مطالبہ کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔ تاہم جسٹن بالڈونی کو کچھ دیگر دعوے دوبارہ دائر کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جن میں وہ ترمیم کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ اداکارہ بلیک لولی نے ساتھی اداکار جسٹن بالڈونی پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا جس کے جواب میں بالڈونی نے اداکارہ اور ان کے شوہر پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
جسٹن نے بلیک کے خلاف 40 کروڑ ڈالرز (تقریباً 326 ملین پاؤنڈ) ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا، جس میں بلیک میلنگ، ہتک عزت، اور پرائیویسی کی خلاف ورزی کی دفعات شامل تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹن بالڈونی
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی