مایوں سعید کا ٹرولنگ پر دو ٹوک جواب
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اداکار پروڈیوسر اور فلمساز ہمایوں سعید نے سوشل میڈیا پر طویل عرصے سے ہیرو کا کردار نبھانے پر کی جانے والی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بحث کو اہمیت نہیں دیتے اور منفی باتوں پر دھیان نہیں دیتے ان کا کہنا تھا کہ وہ برسوں سے ہیرو کا کردار نبھا رہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے لیکن وہ صرف اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں ایک انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ لوگ ہمیشہ انہیں تنقید کا نشانہ کیوں بناتے ہیں تو انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ لوگ جو مرضی کہیں انہیں فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ اپنی جگہ پر مطمئن ہیں اور اپنی صلاحیت کے مطابق کام کر رہے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ ان کی فلموں میں مختلف اداکاروں کو کرداروں کی مناسبت سے منتخب کیا جاتا ہے جن میں فہد مصطفیٰ اور حمزہ علی عباسی جیسے نامور فنکار شامل ہوتے ہیں اس لیے یہ کہنا کہ وہ ہر فلم میں خود ہیرو بنتے ہیں درست نہیں یاد رہے کہ ہمایوں سعید اور ماہرہ خان کی فلم لو گرو حال ہی میں عید کے موقع پر ریلیز ہوئی ہے اور فلم شائقین سے خوب پذیرائی حاصل کر رہی ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔