ڈیری مصنوعات کی مشینری، میڈیکل اور سرجیکل آلات مہنگے
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اسلام آباد: وفاقی بجٹ میں ڈیری، میڈیکل اور سرجیکل شعبے کی مشینری پر ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ کردیا گیا ۔ دودھ پروسیسنگ پلانٹس، مویشی و پولٹری شیڈز، اور جانوروں کی فیڈ مشینری پر 2 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ ڈیری مشینری اور پنکھوں پر 3 فیصد، جبکہ کینولا، سرنج، آگ بجھانے والے آلات اور جم کے سامان پر 3 سے 5 فیصد ٹیکس لگا دیا گیا ۔ ڈیری مصنوعات کی مشینری، میڈیکل اور سرجیکل آلات بھی مہنگائی کے طوفان کی زد میں آ گئے۔ دودھ کے پروسیسنگ پلانٹس کی درآمد پر ٹیکس میں دو فیصد اضافہ کردیا گیا۔ مویشیوں اور پولٹری کے شیڈز پر دو فیصد، ملک فلٹرز پر دو فیصد اضافی ٹیکس لے گا، جانوروں کی فیڈ کی تمام مشینری پربھی دو فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ۔ ڈیری مصنوعات بنانے والی تمام مشینری اور ڈیری شیڈز پر لگے پنکھوں پر تین فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے، میڈیکل، سرجیکل، ڈینٹل، ویٹنری فرنیچر بھی مہنگے ہوں گے۔ کینولا، مینی فولڈز پر پانچ فیصد، انسولین سرنج، آگ بجھانے والے آلات پر پانچ فیصد ٹیکس لاگو کیا گیا ہے، جم کے تمام سامان پر تین سے پانچ فیصد ٹیکس لگایا گیا ۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔