بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف کا فیصلہ، ٹیکس سلیبز میں کمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے سالانہ 32 لاکھ روپے سے 41 لاکھ روپے تک آمدن پر 32 لاکھ سے زائد آمدن پر 30 فیصد اور 3 لاکھ 46 ہزار فکسڈ ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ 41 لاکھ سے زائد تنخواہ والے افراد کے لیے 41 لاکھ سے زائد آمدن پر 35 فیصد اور 6 لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس کی تجویز ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف کا فیصلہ کرلیا گیا۔ بجٹ تقریر میں تنخواہ دار طبقے کیلئے تمام ٹیکس سلیبز میں کمی کر دی گئی، 6 سے 12 لاکھ تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 1 فیصد ہو گی۔ دوسری جانب بجٹ تقریر میں 12 لاکھ آمدن پر ٹیکس کی رقم 30 ہزار روپے سے کم کر کے 6 ہزار کی تجویز پیش کی گئی۔ علاوہ ازیں 22 لاکھ تک تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد مقرر جبکہ 22 سے 32 لاکھ تنخواہ پر ٹیکس شرح کم کر کے 23 فیصد کر دی گئی۔
اسی طرح سالانہ 32 لاکھ روپے سے 41 لاکھ روپے تک آمدن پر 32 لاکھ سے زائد آمدن پر 30 فیصد اور 3 لاکھ 46 ہزار فکسڈ ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ 41 لاکھ سے زائد تنخواہ والے افراد کے لیے 41 لاکھ سے زائد آمدن پر 35 فیصد اور 6 لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس کی تجویز ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں تنخواہ دار طبقے کیلئے لاکھ سے زائد ا مدن پر فکسڈ ٹیکس لاکھ روپے کی تجویز فیصد اور پر ٹیکس ٹیکس کی
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے اور 30 فیصد الاؤنس کا نوٹیفکیشن جاری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافے اور 30 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تنخواہوں میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے مسلح افواج کے ملازمین، سول آرمڈ فورسز اور تمام وفاقی سول ملازمین کی موجودہ بنیادی تنخواہ پر 10فیصد ایڈہاک الاؤنس جاری کر دیا ہے، یہ الاؤنس کنٹریکٹ ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں بھی شامل ہوگا۔ْ
جوڈیشل کمیشن نے اپنی کارروائی پبلک کرنے کا مطالبہ پھر مسترد کر دیا
علاوہ ازیں وزارت خزانہ نے گریڈ ایک سے گریڈ 22 تک کے ملازمین کو 30 جون 2022 کی بنیادی تنخواہ پر 30 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس دینے کی بھی منظوری دے دی اس کا اطلاق بھی یکم جولائی سے ہوگیا ہے۔
مزید :