بجٹ 2025-26 کے تحت وفاقی حکومت نے پیٹرول، ہائی‑اسپیڈ ڈیزل، اور فرننس آئل پر ہر لیٹر پر 2.5 روپے کا نیا ’کاربن لیوی‘ نافذ کیا ہے۔ اس اضافی محصول کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور ’ماحولیاتی مزاحم‘ منصوبوں کی فنڈنگ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ 26-2025: نان فائلر کو پراپرٹی لینے میں کتنی سہولت ملے ہوگی؟

یہ کاربن لیوی یکم جولائی 2025 سے شروع ہو گا اور آئندہ مالی سال (2026-27) میں اسے دوگنا کر کے 5 روپے فی لیٹر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، حکومت آئندہ مدت میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کے عوائد بھی حتمی کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کاربن لیوی میں اضافہ سے صارفین کو ماہانہ اربوں روپے کا خزانہ فراہم ہو گااور مستقبل میں اس رقم کو CO₂ کے اخراج میں کمی، الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے اور توانائی کے شعبے میں ترقیاتی فنڈز کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ 26-2025، نان فائلرز کی زندگی مزید تنگ کرنے کا فیصلہ

اس اقدام کا مقصد صرف آمدنی میں اضافہ نہیں بلکہ ماحولیاتی پالیسی کے مطابق پاکستان کو پٹرول یا ڈیزل جیسی توانائی پر انحصار کم کر کے ایک صاف ستھری توانائی کی سمت لے جانا بھی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کاربن ٹیکس fossil fuels کے استعمال کو محدود کرنے اور 2030 تک نئی گاڑیوں میں 30 فیصد اور 2-3 پہیوں پر 50 فیصد الیکٹرک تبادلے کے اہداف کے تحت لایا جا رہا ہے، تاکہ ملک توانائی کے بیرونی دباؤ سے بچ سکے ۔

بجٹ میں لگایا جانے والا فی لیٹر کاربن لیوی وقت کے ساتھ بڑھ کر 5 روپے ہو جائے گا، اور اس سے حاصل ہونے والی رقم ماحولیاتی شجرکاری، متبادل توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے منصوبوں میں صرف کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیٹرولیم مصنوعات کاربن لیوی ماحولیات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات کاربن لیوی ماحولیات کاربن لیوی

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ