ایف آئی اے کی کامیاب کارروائی: عمرہ ویزے کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ کرنے والا ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اسلام آباد(صغیر چوہدری )ایف آئی اے کے انسدادِ انسانی سمگلنگ سرکل نے عمرہ ویزے کی آڑ میں گداگروں کی سمگلنگ میں ملوث ملزم گرفتار کو گرفتار کرلیا ۔ملزم محمد عادل کو چھاپہ مار کاروائی کے دوران اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ
ملزم عمرہ ویزہ کی آڑ میں انسانی سمگلنگ میں ملوث پایا گیا ہے ملزم نے بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر متعدد خواتین کو عمرہ ویزے پر سعودی عرب بھجوایا تاہم یہ خواتین مبینہ طور پر گداگری میں ملوث رہیں ۔مذکورہ خواتین نے ویزہ کی معیاد ختم ہونے کے باوجود 10 ماہ تک سعودی عرب قیام کیا جنہیں زائد المعیاد قیام کی بنیاد پر پاکستان ڈی پورٹ کر دیا گیا
خواتین کی نشاندہی پر ملزم سردار محمد عادل کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ملزم کے ساتھ شریک دیگر ساتھیوں کے ملوث ہونے کا تعین کیا جا رہا ہے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔