بجٹ کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 24 ہزار سے بھی بلند
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
کراچی:
وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے اگلے ہی دن اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
بدھ کے روز بازارِ حصص میں کاروبار کا آغاز 2296 پوائنٹس کے بڑے اضافے کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 24 ہزار 314 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔
گزشتہ روز وفاقی حکومت کی جانب سے نئے مالی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کیا گیا تھا، جس کے بعد پی ایس ایکس میں مثبت رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے اور کاروبار میں دلچسپی سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کو ظاہر کررہی ہے۔
حکومت نے گزشتہ روز 17 ہزار 573 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فی صد اضافے کے علاوہ پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے تنخواہوں پر انکم ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔