کراچی: ملیر جیل سے فرار ہونیوالے مزید3 قیدی پکڑے گئے
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملیر جیل سے فرار ہونے والے مزید تین قیدیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں حالیہ دنوں میں زلزلے کے دوران جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں کے خلاف جاری کارروائی کے دوران عمل میں آئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 225 قیدی جیل سے فرار ہوئے تھے، جن میں سے اب تک 152 کو دوبارہ گرفتار کیا جا چکا ہے، جب کہ 73 مفرور قیدیوں کی تلاش جاری ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ فرار ہونے والے قیدیوں کے گھروں اور دیگر ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل کراچی کے علاقے ملیر میں زلزلے کے باعث جیل کی دیواروں میں دراڑیں پڑنے کے بعد متعدد قیدی فرار ہو گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جیل سے فرار
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔