اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی شرح ابھی بھی ساڑھے سات فیصد ہے،ہم مالی گنجائش کے مطابق ہی ریلیف دے سکتے ہیں،ہمارا بجٹ تو خسارے کے ساتھ شروع ہوتا ہے،اپنی چادر کے مطابق آگے چلنا ہے،حکومت جو کچھ دے رہی ہےقرضے لےکر دے رہی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ  نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ  4ہزار ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹیز کو کم کیا گیاہے، مجموعی طور پر 7ہزار ٹیرف لائنز ہیں، 4ہزار میں ٹیرف کو صفر کردیا گیا ہے،پچھلے 30سال سے ٹیرف اصلاحات نہیں کی گئیں،سٹرکچرل ریفارمز کے تناظر میں ٹیرف اصلاحات اہم ہیں، اسے ہم آگے لے کر جائیں گے،قانون سازی کیلئے دونوں ایوانوں سے بات کریں گے،دو ہی طریقے ہیں یا تو انفورسمنٹ کرلیں یا ٹیکس لگا دیں،پنشن اور تنخواہوں کو مہنگائی کےساتھ لنک کرنا ہے۔

ٹیرف اصلاحات سے ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

وزیر خزانہ کاکہناتھا کہ ایڈیشنل ٹیکس زرعی شعبے پر نہ لگانے پر بورڈ سے بات کی گئی،چھوٹے کسانوں کیلئے قرضے دیئے جائیں گے، زراعت اور لائیو سٹاک کی ترقی کیلئے صوبوں سے ملکر کام کریں گے،زراعت اور لائیو سٹاک سے متعلق پالیسی ہونی چاہئے،چھوٹے کسانوں کی فنانسنگ کو بڑھانا ہے صوبوں کے ساتھ ملکر کام کریں گے،توانائی کے شعبے پر بھی تفصیل سے بات کی،ٹیرف اصلاحات سے برآمدات میں اضافہ ہوگا،ٹیرف اصلاحات معاشی ترقی کیلئے ضروری ہیں،اصلاحات لا کر ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر لایا جا سکتا ہے،انہوں نے کہاکہ بجٹ تقریر میں کہا تھا پچھلے سال اتنے ٹیکس لگائے گئے،پچھلے سال ہم کو ٹیکس لگانے پڑے، عالمی ادارے ہماری بات نہیں سن رہے تھے،ہماری کوشش تھی کہ تنخواہ دار طبقے کو جتنا ریلیف دے سکتے ہیں دے دیں،اس سال ہم نے انفورسمنٹ کے ذریعے 400ارب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا۔ 

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے 3 ون ڈے میچز ٹی 20 میں تبدیل کرنے کی تجویز  

ان کاکہناتھا کہ چھوٹے کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے دیئے جائیں گے،کوشش کررہے ہیں کہ جتنا ہوسکے ریلیف فراہم کیا جائے ،زرعی شعبے میں کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا، ہم مالی گنجائش کے مطابق ہی ریلیف دے سکتے ہیں،مہنگائی کی شرح ابھی بھی ساڑھے سات فیصد ہے،ہماری ذمے داری ہے کہ وفاقی اخراجات کو کم کریں،اس مرتبہ ہم نے وفاقی اخراجات کو 2فیصد تک رکھا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کاکہنا تھا کہ ہمارا بجٹ تو خسارے کے ساتھ شروع ہوتا ہے،ماضی میں ہمارے قرضے کس طرح بڑھتے رہے ہیں،ملک میں کچھ اخراجات  بڑھائے ہیں اس کی ضرورت ہے،اپنی چادر کے مطابق آگے چلنا ہے،حکومت جو کچھ دے رہی ہے قرضے لےکر دے رہی ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کا واک آؤٹ

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ٹیرف اصلاحات دے رہی ہے کے مطابق

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار