سابق پاکستانی کرکٹ کپتان مصباح الحق قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داری کے لیے امیدواروں میں شامل ہو گئے ہیں، جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ یعنی پی سی بی میں جاری غیر یقینی صورتحال نے معاملات کو مزید الجھا دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مصباح الحق نے ریڈ بال کی ٹیم کی کوچنگ میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اس سلسلے میں بورڈ سے رابطے بھی کیے ہیں، یاد رہے کہ مصباح ماضی میں 2019 سے 2021 تک قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کے دوہرے عہدوں پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مائیک ہیسن پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے وائٹ بال ہیڈ کوچ مقرر

اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت پی سی بی میں جاری غیر شفاف اور غیر یقینی کوچنگ تقرری کے عمل سے خاصے پریشان ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ سلیکشن کمیٹی اور ٹیم کے مینٹورز بھی اس صورتحال سے بے چینی کا شکار ہیں۔

ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ اگرچہ پی سی بی نے امیدواروں کے انٹرویوز اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی ہیں، لیکن سلیکشن کمیٹی کو ابھی تک بورڈ کی طرف سے کسی حتمی فیصلے یا منصوبے سے متعلق باقاعدہ آگاہ نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: 3 سالوں میں کتنی مرتبہ پی سی بی چیئرمین، قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ، کپتان اور سلیکٹرز تبدیل ہوئے؟

رپورٹس کے مطابق سلیکشن کمیٹی نے پی سی بی حکام کے ساتھ تفصیلی ملاقات میں وضاحت طلب کی، لیکن تاحال کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا گیا، بورڈ کی مسلسل خاموشی نے سلیکٹرز اور کوچنگ اسٹاف کو کنفیوژن سے دوچار کر رکھا ہے۔

اس کے باوجود، پی سی بی نے سلیکشن کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ معمول کے مطابق اپنا کام جاری رکھے۔ کوچنگ عملے اور سلیکٹرز اب بورڈ کے آئندہ اقدامات اور پالیسی فیصلوں کے منتظر ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیسٹ ٹیم سلیکٹرز سلیکشن کمیٹی کرکٹ کنفیوژن کوچنگ کوچنگ اسٹاف مصباح الحق مینٹورز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیسٹ ٹیم سلیکٹرز سلیکشن کمیٹی کرکٹ کنفیوژن کوچنگ کوچنگ اسٹاف مصباح الحق مینٹورز ٹیم کے ہیڈ کوچ سلیکشن کمیٹی مصباح الحق کے مطابق پی سی بی

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی