وزراء، وزرائے مملکت، پارلیمنٹیرینز کی تنخواہیں آخری دفعہ 2016 کو بڑھائی گئی تھیں، وزیرخزانہ کا موقف
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اوصاف نیوز)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہیں بڑھانے سے متعلق سوال پوچھ لیا گیا۔
اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے سوال کیا گیا کہ چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہیں بڑھائی گئیں
ان کی تنخواہیں اڑھائی لاکھ سے بڑھا کر ساڑھے 21 لاکھ روپے ماہانہ کردی گئیں؟ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جواب دیا کہ یہ دیکھیں کہ وزراء، وزرائے مملکت، پارلیمنٹیرینز کی تنخواہیں آخری دفعہ کب بڑھی تھیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ کابینہ کے وزراء کی تنخواہوں میں آخری دفعہ اضافہ 2016 میں ہوا تھا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی بات کرتے ہیں تو وزراء کی بھی بڑھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہر سال تنخواہ بڑھتی رہتی تو ایک دم بڑھنے والی بات نہ ہوتی۔۔
یہ ضرور دیکھ لیں کہ وزراء اور پارلیمنٹیرینز کی سیلری کو کب ایڈجسٹ کیا گیا تھا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ میں نے کسی چیز کو اوپر جانے کے بعد نیچے آتے نہیں دیکھا، جو چیز کبھی ریورس نہیں ہوئی تھی ہم نے اسے ریورسل میں ڈال دیا ہے، ہم نے ٹیکسوں میں کمی لانے کی کوشش کی ہے۔
ایلون مسک اور ٹرمپ کے درمیان برف پگھلنے لگی،جھگڑے پرافسوس کا اظہار
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ محمد اورنگزیب کی تنخواہیں
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔