برطانیہ میں انسانی فضلات پر مبنی کیپسولز سے طبی مسائل کا علاج
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
برطانیہ میں نئی تحقیق میں انسانی فضلات پر مبنی کیپسولز جنہیں poo pills کا نام دیا گیا ہے، کا استعمال مختلف طبی مسائل خصوصاً اینٹی بائیوٹک مزاحم انفیکشنز سے لڑنے میں کیا جا رہا ہے۔
یہ ایف ایم ٹی کیپسولز صحت مند عطیہ دہندگان کے فضلے میں زہریلے بیکٹیریا کو خشک کر کے تیار کیے جاتے ہیں تاکہ مریض کے آنتوں میں پہنچ کر نقصان دینے والے جراثیم کا مقابلہ کریں۔
لندن میں گائیز اینڈ سینٹ تھامس اسپتال کے محققین نے 41 مریضوں پر ایک کلینیکل ٹرائل کیا۔ نصف مریضوں کو تین دن مسلسل فضلات والے کیپسولز دیے گئے۔
ایک ماہ بعد ان مریضوں کی آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی اضافی تعداد پائی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کیپسولز انفیکشنز کو داخل ہونے سے روک سکتے ہیں۔
ڈیڑھ ارب افراد ہر سال اینٹی بائیوٹک مزاحم انفیکشنز سے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس طریقہ کار کو کلیدی امید سمجھا جا رہا ہے۔
خطرات؛
تاہم واضح رہے کہ برطانیہ میں سرکاری طور پر صرف کلوسٹریڈیوم ڈیفیسل کے علاج کے لیے ان کیپسولز کی منظوری ہے۔ باقی طبی حالتیں (مثلاً کینسر، ذیابیطس، دماغی امراض وغیرہ) ابھی تحقیق یا نجی کلینکس تک محدود ہیں۔
نجی طور پر ایف ایم ٹی کیپسولز مختلف امراض جیسے ذیابیطس، دمہ، حتیٰ کہ جوانی واپس لانے کے لیے فروخت ہو رہے ہیں لیکن اس کے طویل المدت اثرات اور محفوظیت پوری طرح ثابت نہیں ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔