ہال آف فیم میں شامل ہونے کے بعد ثنا میر نے اپنی پہلی پوسٹ میں کیا کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے 2025 کے ہال آف فیم میں شامل ہونے کے بعد پاکستانی ویمنز ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر کا پہلا بیان سامنے آ گیا۔
ثنا میر کا کہنا تھا کہ جب مجھے یہ اعزاز ملا تو میرا پہلا ردعمل الحمدللہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کرکٹ کھیلنا میرے لیے سب سے بڑا انعام رہا ہے۔
سماجی رابطوں کی سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے ثنا میر نے کہا کہ ایک چھوٹی سی لڑکی کے طور پر خواب دیکھا تھا کہ شاید ایک دن ہمارے ملک میں خواتین کی بھی کرکٹ ٹیم بنے گی، اور آج یہاں کھڑے ہو کر ان عظیم کھلاڑیوں کے ساتھ شامل ہونا جنہیں میں نے بچپن میں ہی اپنا آئیڈیل سمجھا تھا، یہ وہ لمحہ ہے جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
My first reaction, when i got to know about this honor.
Playing cricket for Pakistan was always the greatest reward in itself.
From dreaming as a little girl that one day there would even be a women's team in our country, to now standing here, inducted among… pic.twitter.com/bu2nZCbf6Z
— Sana Mir ثناء میر (@mir_sana05) June 11, 2025
انہوں نے جیوری کے معزز ممبران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ میں اپنے کھیل کی تاریخ میں ایسے ناموں کے ساتھ شامل ہوں اور میں اس ذمہ داری کو اسی جذبے اور عزم کے ساتھ نبھاؤں گی جس نے مجھے یہاں تک پہنچایا۔
ثما میر کا کہنا تھا کہ آج کی یہ رات صرف میری نہیں ہے، بلکہ ہر اُس لڑکی کے لیے ہے جو بلا یا گیند اٹھاتی ہے، جہاں لوگ کہتے ہیں کہ کرکٹ ان کے لیے نہیں۔ ہر اُس خاتون کے لیے جو توقعات کی دیواریں توڑ کر میدان میں، گھر میں یا جہاں بھی ہو، اپنی جگہ بناتی ہے۔ ہماری راہیں آسان نہیں ہوتیں، مگر یہ ممکن ضرور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ثنا میر کو ایوارڈ دینے پر جے شاہ کا اترا ہوا چہرہ تو دیکھیں‘
آخر میں پاکستانی ویمنز ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر نے کہا کہ میرے ساتھی کھلاڑیوں، کوچز اور خاندان کا بے حد شکریہ، جنہوں نے میرے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی جدوجہد میں میرا ساتھ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہترین لمحات ابھی باقی ہیں۔ ان شاء اللہ۔
واضح رہے کہ ثنا میر اس فہرست میں شامل ہونے والی پاکستانی ویمن کرکٹر بن گئیں۔ ان کے علاوہ اب تک پاکستان کے 7 کرکٹرز کو ہال آف فیم کی زینت بنایا گیا ہے جن میں کرکٹ لیجنڈ عمران خان، وسیم اکرم، جاوید میانداد، عبدالقادر، ظہیر عباس، وقار یونس اور حنیف محمد شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانی کرکٹ ثنا میر ہال آف فیم ویمن کرکٹ ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی کرکٹ ہال ا ف فیم ویمن کرکٹ ٹیم ہال ا ف فیم کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔