خاتون سے شوہر کے سامنے زیادتی کے ملزم کی مقابلے میں ہلاکت کا خدشہ ہے: بھائی کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
لاہور ہائی کورٹ—فائل فوٹو
لاہور ہا ئی کورٹ میں حافظ آباد میں خاتون کو شوہر کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم کے بھائی نے درخواست دائر کی ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پولیس نے ملزم اکرام کو خاتون سے زیادتی کے مقدمے میں گرفتار کیا ہے۔
پنجاب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ حافظ آباد میں شوہر کے سامنے خاتون سے اجتماعی زیادتی کرنے والا ایک ملزم پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ملزم اکرام کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کا خدشہ ہے۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ خاتون سے زیادتی کرنے والے ملزمان خاور منصب، خاور فیاض اور لئیق پولیس مقابلے میں مارے جا چکے ہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پولیس کو ملزم اکرام کو پیش کرنے کا حکم دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شوہر کے سامنے مقابلے میں خاتون سے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔