UrduPoint:
2026-07-24@05:47:54 GMT

وفاقی بجٹ 2025: معاشی استحکام یا عوامی مشکلات کا نیا دور؟

اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT

وفاقی بجٹ 2025: معاشی استحکام یا عوامی مشکلات کا نیا دور؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 جون 2025ء) ماہرین کے مطابق یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا، جب اس سے ایک روز قبل جاری ہونے والا اقتصادی سروے معیشت کی مایوس کن تصویر پیش کرتا ہے۔ مسلسل تیسرے سال معاشی اہداف حاصل نہ ہونے اور صرف 2.7 فیصد شرح نمو کے ساتھ، بجٹ میں سرکاری اخراجات میں کمی اور ٹیکسوں کی سختی پر زور دیا گیا ہے، جبکہ افراطِ زر کا ہدف 7.

5 فیصد مقرر کیا گیا۔

ماہرین کی تشویش

ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ یہ بجٹ معیشت اور عام آدمی کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق تنخواہوں میں معمولی اضافہ اور چند ٹیکسوں میں کمی مثبت فیصلے ہیں لیکن غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد، جو نہ تنخواہ دار ہیں اور نہ ٹیکس دہندگان، اس سے مستفید نہیں ہوں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری سب سے بڑا مسئلہ ہے، ''جس کے پاس آمدنی نہیں، وہ 20 روپے کی روٹی 10 روپے میں بھی کیسے خریدے گا؟‘‘

دوسری جانب ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اعجاز نبی نے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی حمایت سے معاشی استحکام کا باعث بنے گا۔ ان کے مطابق حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے بعد پاکستان کا عالمی امیج بہتر ہوا ہے اور یہ بجٹ معاشی اصلاحات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور اصلاحات کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بجٹ کی منفرد حیثیت؟

سینئر تجزیہ کار ثقلین امام کے مطابق یہ بجٹ ماضی کے بجٹوں سے مختلف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت تیار کردہ یہ بجٹ عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں دیتا، ''ملک کی 40 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔

پنجاب میں 30 فیصد، سندھ میں 45 فیصد، خیبر پختونخوا میں 48 فیصد اور بلوچستان میں 70 فیصد غربت ہے۔ حکومت بتائے کہ اس بجٹ میں ان غریبوں کے لیے کیا ہے؟‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ کا 51 فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے اور دیرپا معاشی حکمت عملی کا فقدان ہے۔ ان کے خیال میں کم از کم اجرت کو دگنا کرنا چاہیے۔

حکومتی موقف اور تنقید

پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا کہ مالی گنجائش کے مطابق ریلیف دیا گیا ہے اور کچھ اخراجات ملکی ضروریات کے تحت بڑھائے گئے ہیں۔

تاہم ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اصغر زیدی نے بجٹ کو ''مخلوط‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیرف میں بہتری جیسے کچھ مثبت اقدامات ہیں لیکن یہ معاشی اصلاحات لانے میں ناکام رہا۔

ثقلین امام نے دفاعی اخراجات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دفاع ضروری ہے لیکن ترجیحات کو درست کرنے کی ضرورت ہے، ''اگر ملک دفاع کرتے کرتے دیوالیہ ہو جائے تو کیا فائدہ؟‘‘

ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ پاک-بھارت کشیدگی میں پاکستان نے کم طیاروں سے بھارت کو شکست دی، جو ''کوانٹیٹیو کے بجائے کوالیٹیٹیو‘‘ دفاع کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے بجٹ کے اعداد و شمار پر بھی سوال اٹھایا، خاص طور پر منفی مینوفیکچرنگ اور کم امپورٹس کے باوجود سیلز ٹیکس کی بلند شرح نمو کو مشکوک قرار دیا۔ عوامی مسائل

ماہر اقتصادیات خالد رسول نے کہا کہ گرین پاکستان اور ماحول دوست گاڑیوں کے فروغ کے نام پر چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے سے قیمتیں بڑھیں گی، جو عام آدمی کے لیے مشکلات کا باعث بنے گا۔ ایک چھوٹے کاروبار سے وابستہ خاتون اقرا نے بتایا کہ آن لائن کاروبار پر ٹیکس سے نوجوان کاروباریوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق بجٹ 2025 معاشی استحکام کے دعووں کے باوجود غربت، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے بنیادی مسائل سے نمٹنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ماہر اقتصادیات نے کہا کہ انہوں نے کے مطابق یہ بجٹ کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ