ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، معاشی استحکام آ چکا، اب جی 20 میں شمولیت ہدف ہے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
نیویارک(نیوز ڈیسک)نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے سرتوڑ کوششیں کی گئیں، کوئی یہ نہ سمجھے کہ حکومت نے ان کے لیے کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ پاکستان کی بیٹی ہیں اور اس حوالے سے کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ تحریک عدم اعتماد مشکل فیصلہ تھا۔ پی ٹی آئی حکومت 6 ماہ اور رہتی تو ملک دیوالیہ ہوجاتا۔ اب ہمارا ہدف پاکستان کو جی 20 میں شامل کرنا ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے نیویارک میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سنجیدہ کوششوں سے معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے اور پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا گیا۔
اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی یہ نہ بتائے کہ ہم نے عافیہ صدیقی کےلیے کوشش نہیں کی، ہم نے ان کی رہائی کے لیے سرتوڑ اقدامات کیے۔ وہ پاکستان کی بیٹی ہے اور کوئی اس بارے میں غلط فہمی میں نہ رہے۔
نائب وزیراعظم نے سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی حکومت مزید 6 ماہ رہتی تو ملک دیوالیہ ہو چکا ہوتا۔ ڈیفالٹ کا خطرہ اب ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریکِ عدم اعتماد ایک مشکل فیصلہ تھا، لیکن وہ ملک کے مفاد میں کیا گیا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین سال میں حکومتی پالیسیوں کی بدولت معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے اور عالمی مالیاتی ادارے بھی اب پاکستان کی معاشی کارکردگی کے معترف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جی ڈی پی گروتھ میں مثبت رجحان دیکھنے کو ملا ہے۔
آخر میں نائب وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمارا ہدف ہے کہ پاکستان کو جلد جی 20 ممالک کی صف میں شامل کیا جائے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار انہوں نے نے کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔