زیتونی کچھوؤں نے کراچی سمیت پاکستانی ساحلوں سے منہ موڑ لیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
کراچی:
اڑی باڈا (ہسپانوی زبان کا لفظ،معنی آمد) ساحل سمندرکی ورطہ حیرت ڈال دینے والی سرگرمی جس کے دوران زیتونی (اولیوریڈلی) نسل کی مادہ کچھوے بیک وقت سیکڑوں کی تعداد میں ہزاروں کے قریب انڈے دینے کیلیے بحرِہند، بحرالکاہل اوربحراوقیانوس کارخ کرتے ہیں۔
ماہرین اڑی باڈا کے نظارے کوقدرت کا ایک عجوبہ قراردیتے ہیں، بدقسمتی سے گرین ٹرٹل کے علاوہ ملنے والی کچھوؤں کی دوسری نسل(زیتونی کچھوؤں) نے کراچی سمیت پاکستان کے ساحلوں سے منہ موڑلیا۔
2001 کے بعد پاکستان میں کسی بھی اولیوریڈلی کا گھونسلہ نہیں ملا، پاکستان کے سمندروں میں اولیو ریڈلے (زیتونی) کچھوے کے ناپید ہونے کے درپردہ کلائمٹ چینج ہوسکتا ہے۔
تیکنیکی مشیرڈبیلوڈبیلو ایف معظم خان نے کہا کہ کراچی کے ساحل کے قریب ہونے والے تسمان اسپرٹ کا واقعہ اولیوریڈلے کی معدومیت کی اہم وجہ ہے۔
ڈاکٹربابرحسین،آئی یو سی این (پاکستان ) دنیا بھرمیں سمندری کچھوؤں کی7 اقسام پائی جاتی ہیں،ان میں سے 5 اقسام کے کچھوے سن 1970 تک پاکستان کے ساحلوں کا رخ کرتے تھے اورافزائش نسل کے لیے بھی ان کی ہرسال تواترسے آمد ہوتی تھی،تاہم بعد کے آنیوالے برسوں میں یہ المیہ رہا کہ ابتدا میں صرف 2 ہی اقسام کے کچھوے پاکستان میں ملنے لگے جس میں ایک گرین ٹرٹل نسل جبکہ دوسری نسل زیتونی کچھوؤں کی تھی۔
اولیو ریڈلے کچھوا دنیا کے سب سے چھوٹے اورسب سے زیادہ تعداد میں پائے جانے والے سمندری کچھوؤں میں شمارہوتا ہے،اس کا نام اس کی زیتون جیسے سبزرنگت کی وجہ سے دیا گیا ہے،یہ کچھوے گرم پانی والے سمندری علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔
نامعلوم وجوہ کی بنا پرزیتونی کچھوؤں نے پاکستانی ساحلوں کوخیرباد کہہ دیا،اب پاکستان میں پائی جانے والی واحد نسل گرین ٹرٹلز(سبزکچھوؤں ) کی رہ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق لاایسکوبیلامیکسیکوایک اندازے کے مطابق ساڑھے چارلاکھ گھونسلے بنانے والی مادہ کچھوؤں کی میزبانی کرتا ہے، کوسٹاریکا،نانسیٹا اوراوسٹناول چھ لاکھ مادہ کچھوؤں کوافزائش نسل کے لیے خوش آمدید کہتاہے۔
اڑی باڈا کے لیے بھارت کے اڑیسہ کے قریب گوہیرماٹھااوراڑیسہ کے قرب میں ہی ایک دوسرامقام روشی کول بھی مشہورہے،اڑی باڈا کا سمندری سرگرمی سال میں ایک یا دو بار مخصوص ساحلی مقامات پر ہوتا ہے اورکئی دنوں تک جاری رہتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔