کراچی میں خونی واٹر ٹینکر نے 2 موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کی جان لے لی
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں خونی واٹر ٹینکر کی ٹکر سے شہریوں کی جان لینے کا سلسلہ کسی بھی صورت تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا، نارتھ ناظم آباد بورڈ آفس کے قریب واٹر ٹینکر کی بے قابو ٹکر نے دو نوجوانوں کی جان لے لی۔
حادثہ عبداللہ کالج کے نزدیک پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار واٹر ٹینکر نے موٹر سائیکل سوار دو نوجوانوں کو کچل دیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
جاں بحق نوجوانوں کی شناخت 20 سالہ زبیر اور 18 سالہ ایان کے نام سے کی گئی ہے۔ دونوں بچپن کے دوست تھے اور اورنگی ٹاؤن داتا نگر کے رہائشی تھے، جبکہ ایان چند ماہ قبل الطاف نگر منتقل ہوا تھا۔
ورثا کے مطابق دونوں دوست حسین آباد سے آئسکریم کھا کر موٹر سائیکل پر واپس جا رہے تھے کہ راستے میں واٹر ٹینکر نے انہیں روند ڈالا۔
مزید پڑھیں: کراچی: مختلف ٹریفک حادثات میں دو موٹر سائیکل سوار جاں بحق
واقعے کے بعد علاقے میں شدید اشتعال پھیل گیا۔ مشتعل عوام نے واٹر ٹینکر پر پتھراؤ کرتے ہوئے اس کے شیشے اور لائٹیں توڑ دیں۔
عوام نے ڈرائیور کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا، جسے بعدازاں پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے اپنی حراست میں لے لیا اور ٹینکر کو جلنے سے بچا لیا۔
چھیپا ایمبولینس کے ذریعے دونوں نوجوانوں کی لاشیں عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئیں۔ پاپوش نگر پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورت حال کو قابو میں کیا اور واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ورثا اور علاقہ مکینوں نے واٹر ٹینکر مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جاں بحق ایان نویں جماعت کا طالب علم تھا، جس کی اچانک موت نے اہلِ خانہ کو غم سے نڈھال کر دیا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان نوجوانوں کی موٹر سائیکل واٹر ٹینکر
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔