ترکی کا انڈونیشیا کے ساتھ 10 ارب ڈالر کے جنگی طیاروں کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
انقرہ: ترکی اور انڈونیشیا کے درمیان جدید لڑاکا طیاروں ’’Kaan‘‘ کی برآمد کے حوالے سے 10 ارب ڈالر کا بڑا دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا کہ یہ معاہدہ دونوں برادر ممالک کے درمیان طے پایا ہے۔
معاہدے کے تحت ترکی اگلے 10 سالوں میں 48 عدد Kaan جنگی طیارے تیار کرکے انڈونیشیا کو فراہم کرے گا۔
ترک میڈیا کے مطابق معاہدے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہے جس کے تحت انڈونیشیا کی مقامی صلاحیتوں سے بھی طیارہ سازی میں فائدہ اٹھایا جائے گا۔
یہ ففتھ جنریشن کا جدید لڑاکا طیارہ ہے جسے سرکاری کمپنی Turkish Aerospace Industries (TAI) نے تیار کیا ہے۔ اس نے فروری 2024 میں اپنی پہلی پرواز مکمل کی تھی۔
ابتدائی طور پر اسے F-16 جیسے انجن سے لیس کیا گیا ہے، تاہم ترکی مستقبل میں اسے مقامی انجن سے آراستہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ 2024 میں ترکی کی دفاعی برآمدات 7.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارب ڈالر
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔