10 ارب ڈالر کا معاہدہ: ترکی انڈونیشیا کو جدید جنگی طیارے فراہم کرے گا
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انقرہ: ترکی نے اپنی تیار کردہ پانچویں نسل کے جدید جنگی طیارے “کان” (KAAN) انڈونیشیا کو برآمد کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے،ترک صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا ہے کہ یہ تاریخی معاہدہ دونوں “دوست اور برادر ممالک” کے درمیان دفاعی تعاون کی نئی مثال ہے، اور انڈونیشیا اس طیارے کا پہلا خریدار بنے گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق ترک صدر نے کہاکہ “ہم نے انڈونیشیا کے ساتھ 48 کان جنگی طیاروں کی تیاری اور برآمد کا معاہدہ کیا ہے، جو ترکی میں تیار کیے جائیں گے اور انڈونیشیا کو فراہم کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے تحت انڈونیشیا کی مقامی صلاحتیں بھی طیاروں کی تیاری میں استعمال کی جائیں گی، اور اس منصوبے میں تکنیکی تعاون بھی شامل ہے، یہ معاہدہ تقریباً 10 ارب ڈالر کی مالیت کا ہے اور اس پر آئندہ 10 برسوں میں عمل درآمد کیا جائے گا، جس دوران تمام 48 طیارے تیار کر کے انڈونیشیا کے حوالے کیے جائیں گے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق اس معاہدے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہے، جو انڈونیشیا کی دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے،”کان” جنگی طیارہ ترکی کا پہلا مکمل طور پر دیسی ساختہ پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ ہے، جس پر تقریباً ایک دہائی سے کام جاری ہے۔ اسے 2023 میں پہلی بار عوام کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور 2024 کے اوائل میں اس نے اپنی پہلی آزمائشی پرواز مکمل کی تھی۔
ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق، “کان” کی سیریل پروڈکشن 2028 میں شروع ہو جائے گی، یہ طیارہ جدید ریڈار ٹیکنالوجی، اسٹیلتھ صلاحیت، سپر سونک پرواز، اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔