ملیر جیل سے فرار ہونے والےمزید 4 قیدی گرفتار، 68 تاحال مفرور
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
کراچی کی ملیر جیل سے قیدیوں کے اجتماعی فرار کے واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو چکے ہیں، اور حوالے سے جاری کوششوں کے نتیجے میں مزید 4 مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کتنے قیدی فرار ہوئے، ملیر جیل سپرنٹنڈنٹ نے نئی فہرست جاری کر دی
جیل حکام کا کہنا ہے کہ اب تک مجموعی طور پر 157 قیدیوں کو دوبارہ حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ 68 قیدی تاحال فرار ہیں جن کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
جیل حکام کے مطابق ملیر جیل سے مجموعی طور پر 225 قیدی فرار ہوئے تھے، جو ملکی تاریخ کے بدترین جیل بریک واقعات میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔
اس واقعے نے نہ صرف جیل کی سیکیورٹی پر سوالات کھڑے کیے بلکہ انتظامی غفلت اور اندرونی سہولت کاری کے شبہات بھی جنم دیے۔
حکام کے مطابق مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرنے کے لیے پولیس اور دیگر اداروں نے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں تیز کر دی ہیں، اور کئی قیدیوں کو ان کے آبائی گھروں یا قریبی رابطوں کے ذریعے تلاش کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ملیر جیل سے قیدیوں کا فرار: دیواریں کمزور تھیں یا اہلکاروں نے غفلت برتی؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں جیل کی اندرونی سیکیورٹی کی سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں، جن کی روشنی میں کئی افسران کو معطل یا ان کے خلاف تفتیش شروع کی جا چکی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
قیدی فرار مفرور قیدی ملیر جیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ملیر جیل ملیر جیل سے قیدیوں کو
پڑھیں:
پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں شرینہ کو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شیریں شرینہ ملزمہ کو دونوں بیٹوں کے ساتھ کامران چورنگی سے گرفتار کیا گیا، ملزمہ ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات فروخت کرتی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ چند سال قبل گرفتار ہوکر جیل گئی تھی اور دو سال پہلے واپس آئی تھی، ملزمہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف 35 کے قریب مقدمات درج ہیں، ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سےدستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے ڈائریکٹ ہیروئن سپلائی کرتی تھی، گرفتار ملزمہ اور ملزمان سے مذید تفتیش کی جارہی ہے۔