خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں گرج چمک، آندھی کے ساتھ بارش کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
پشاور:
پی ڈی ایم اے نے پیش گوئی کی ہے کہ خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں کل سے گرج چمک اور آندھی کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ پیر تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دوران چترال، دیر، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مالاکنڈ، بونیر، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، وزیرستان، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، صوابی، بنوں، کرک اور کوہاٹ میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام ضلعی انتظامیہ کو بارش باعث کسی بھی ناخوش گوار واقعے سے پیشی نمٹنے کے لیے مراسلہ جاری کردیا گیا ہے اور کسی بھی ناخوش گوار واقعے سے پہلے ہی نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو چھوٹی بڑی مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ بارش کے دوران عوام بجلی کی تاروں، بوسیدہ عمارتوں، تعمیرات، سائن بورڈز اور بل بورڈز سے دور رہے اورکسان حضرات موسمیاتی پیش گوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے معمولات ترتیب دیں۔
پی ڈی ایم اے نے حساس بالائی علاقوں میں سیاحوں اور مقامی آبادی کو موسمی حالات سے باخبر رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ حساس اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کو مقامی آبادی تک پیغامات مقامی زبانوں میں پہنچائے جائیں۔
انتظامیہ کو بتایا گیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں تمام متعلقہ ادارے روڈ لنکس کی بحالی میں چوکس رہیں اور سڑک کی بندش کی صورت میں ٹریفک کے لیے متبادل راستے فراہم کیے جائیں۔
پی ڈی ایم اے نے کہا کہ سیاح موسمی صورت حال اور سڑکوں کی بندش کے پیش نظر سیاحتی مقامات کا رخ کرنے سے پہلے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔
خیال رہے کہ پشاور میں عید کے دن سے مسلسل 5 روز تک شدید گرمی کا سلسلہ جاری ہے جہاں درجہ حرارت 46 اور بعض اضلاع میں 49 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا تاہم اب گرمی کی شدت میں کمی کے امکانات ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے انتظامیہ کو کا امکان کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔