احمد آباد طیارہ حادثہ: خوش قسمت بھومی چوہان کی جان کیسے بچی؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
ویسے تو انسان کو وقت کی ہر حال میں پابندی کرنی چاہیے لیکن سرتوڑ کوشش کے باوجود اگر کبھی کہیں تاخیر ہوجائے تو اس پر سر پیٹنے کی بجائے اسے خدا کی مصلحت ہی سمجھنا احسن عمل ہوتا ہے۔ ایسا ہی کچھ احمد آباد میں تباہ ہوجانے والے ایئر انڈیا کے طیارے کی ایک خاتون مسافر کے ساتھ بھی ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ایئر انڈیا کا طیارہ پرواز بھرتے ہی کریش کرگیا، سابق وزیراعلیٰ گجرات سمیت 241 مسافر ہلاک
ہندوستان ٹائمز کے مطابق بھومی چوہان لندن جانے والی مذکورہ بدقسمت فلائٹ پکڑنے کے لیے گھر سے نکلی تھیں لیکن راستے میں غیر معمولی ٹریفک کی وجہ سے وہ بورڈنگ کے مقررہ وقت سے 10 منٹ تاخیر سے پہنچیں جس کے سبب ان کی فلائٹ تو مس ہوگئی لیکن زندگی بچ گئی۔
بھومی چوہان نے میڈیا کو بتایا کہ وہ صرف 10 منٹ لیٹ ہوئی تھیں جو اس وقت تو انتہائی بدقسمتی محسوس ہوئی لیکن در حقیقت وہ ان کی اپنے خوش قسمتی ہی نکلی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب تک ان تمام باتوں کا سوچ کر کانپ رہی ہیں، بلاشبہ انہیں ایک نئی زندگی ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اس طیارے کے حادثے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانوں کے نقصان کا سن کر ٹوٹ سی گئی ہوں اور بات کرنے کے بھی قابل نہیں ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ میرا جسم اور دماغ سن ہوکر رہ گئے ہوں۔
مزید پڑھیے: ایئر انڈیا حادثہ: روزگار کی خاطر گھر سے دور جانے والی نرس بھی بدقسمت مسافروں میں شامل
بھومی چوہان نے بتایا کہ تاخیر سے پہنچنے کے سبب فلائٹ پر سوار نہ ہوسکنے کے بعد وہ دوپہر ڈیڑھ بجے ایئرپورٹ سے مایوسی کی حالت میں گھر کے لیے واپس روانہ ہوئی۔ واضح رہے کہ بدقسمت طیارے نے ایک بجکر 38 منٹ پر ٹیک آف کیا تھا اور کچھ ہی دیر میں ہوائی اڈے کے قریب ہی واقعن ایک رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
خوش قمست خاتون نے کہا کہ جان بچ جانے پر وہ خدا کی بیحد شکر گزار ہیں۔ بھومی چوہان کو ایئر انڈیا کی فلائٹ سے اکیلے ہی لندن واپس جانا تھا۔ وہ لندن میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہیں اور 2 سال بعد چھٹیاں گزارنے بھارت آئی تھیں۔
مزید پڑھیں: ایئر انڈیا طیارہ کریش: زندہ بچ جانے والے واحد مسافر نے کیا قصہ سنایا؟
بھومی چوہان نے کہا کہ میں صرف ان 10 منٹوں کی وجہ سے طیارے میں سوار نہیں ہو سکی اور مجھے سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس سارے معاملے کی وضاحت کیسے کروں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احمد آباد طیارہ حادثہ ایئر انڈیا طیارہ حادثہ بلیسنگ ان ڈسگائس ٹریفک جام خاتون بچ گئیں فلائٹ مس نئی زندگی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احمد ا باد طیارہ حادثہ ایئر انڈیا طیارہ حادثہ بلیسنگ ان ڈسگائس ٹریفک جام خاتون بچ گئیں فلائٹ مس نئی زندگی ایئر انڈیا کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔