رکن پارلیمنٹ نے مہنگائی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، تعلیم کے زوال اور دہشت گردی کے بڑھتے خطرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان ہندوستان کو آنکھیں دکھا رہے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے سینیئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے وزیراعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دنیا میں جھوٹ بولنے پر نوبل انعام دیا جانے لگے، تو سب سے پہلا نام نریندر مودی کا آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے گزشتہ گیارہ برسوں میں جھوٹ پر مبنی بیانیہ کے ذریعے نہ صرف اقتدار حاصل کیا بلکہ اسی جھوٹ کے سہارے برسر اقتدار بھی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز نے عوام کو بے وقوف بنا کر ملک کو اقتصادی، سماجی اور سلامتی کے محاذ پر کمزور کر دیا ہے۔ سنجے راؤت نے کہا کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے جو کہا وہ بالکل درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے جھوٹے وعدوں کے ذریعے پہلے اقتدار حاصل کیا، پھر گیارہ سال تک عوام کو گمراہ کرتے رہے، آج صورت حال یہ ہے کہ ملک کا غریب اور زیادہ غریب ہوگیا ہے، جبکہ وزیراعظم کے چند قریبی لوگ ارب پتی بن چکے ہیں۔

سنجے راؤت نے مہنگائی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، تعلیم کے زوال اور دہشت گردی کے بڑھتے خطرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان ہندوستان کو آنکھیں دکھا رہے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت بری طرح لڑ کھڑا چکی ہے، لیکن حکومت اس پر پردہ ڈالنے میں مصروف ہے۔ مہاراشٹر کی سیاست پر بھی سنجے راؤت نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی، اجیت پوار کی این سی پی اور ایکناتھ شندے کی شیو سینا تینوں دراصل امت شاہ کے اشارے پر چل رہی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ تمام پارٹیاں بی جے پی ہی کی شاخیں ہیں اور امت شاہ ان کے اصل صدر ہیں۔

سنجے راؤت نے کہا کہ بی ایم سی اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) اتحاد مضبوطی کے ساتھ اترے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بات چیت چل رہی ہے، وقت آنے پر باضابطہ اعلان کیا جائے گا اور ہم پورے زور کے ساتھ الیکشن لڑیں گے، جب سنجے راؤت سے پوچھا گیا کہ این سی پی کی رکن پارلیمان سپریا سولے نے حالیہ دنوں وزیراعظم مودی کی تعریف کی ہے، تو انہوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریا سولے کو اگر مودی میں کوئی خوبی نظر آتی ہے تو وہ ان کا ذاتی نظریہ ہے، ہمیں ایسی کوئی خوبی نظر نہیں آتی۔ سنجے راؤت نے کہا کہ ملک اس وقت ایک غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے گزر رہا ہے، حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو توڑا جا رہا ہے، ایجنسیوں کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور اقتدار کے بل پر مخالف لیڈروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کرتے ہوئے کہا سنجے راو ت نے رہا ہے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا